تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 66
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۶ سورة البقرة بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز، روزہ کی وجہ سے برکات حاصل نہیں ہوتے وہ غلط کہتے ہیں۔نماز ، روزہ کے برکات اور ثمرات ملتے ہیں اور اسی دنیا میں ملتے ہیں۔لیکن نماز ، روزہ اور دوسری عبادات کو اس مقام اور جگہ تک پہنچانا چاہئے جہاں وہ برکات دیتے ہیں۔صحابہ کا سارنگ پیدا کرو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اور سچی اتباع کرو پھر معلوم ہوگا کہ کیا کیا برکات ملتے ہیں۔(احکم جلد ۱۰ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ر جولائی ۱۹۰۶ء صفحه ۳) خوب یاد رکھو اور پھر یا درکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔نماز اور توحید کچھ ہی ہو ( کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے ) اسی وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو!! سنو!وہ دُعا جس کے لئے اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن: ۶۱) فرمایا ہے اس کے لئے یہی سچی روح مطلوب ہے۔اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی روح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔ٹریکٹ نمبر العنوان حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت وجود پر ایک خط مرتبہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه ۱۱} نماز اور استغفار دل کی غفلت کے عمدہ علاج ہیں نماز میں دُعا کرنی چاہئے کہ (اے اللہ ) مجھ میں اور میرے گناہ میں ڈوری ڈال۔صدق سے انسان دُعا کرتا رہے تو یہ یقینی بات ہے کہ کسی وقت منظور ہو جاوے۔جلدی کرنی اچھی نہیں ہوتی زمیندار ایک کھیت ہوتا ہے تو اسی وقت نہیں کاٹ لیتا۔بے صبری کرنے والا بے نصیب ہوتا ہے نیک انسان کی یہ علامت ہے کہ وہ بے صبری نہیں کرتے۔بے صبری کرنے والے بڑے بڑے بد نصیب دیکھے گئے ہیں اگر ایک انسان کنواں کھودے اور ۲۰ ہاتھ کھودے اور ایک ہاتھ رہ جائے تو اُس وقت بے صبری سے چھوڑ دے تو اپنی ساری محنت کو برباد کرتا ہے اور اگر صبر سے ایک ہاتھ اور بھی کھود لے تو گوہر مقصود پالیوے۔یہ خدا کی عادت ہے کہ ذوق اور شوق اور معرفت کی نعمت ہمیشہ دیکھ کے بعد دیا کرتا ہے اگر ہر ایک نعمت آسانی سے مل جاوے تو اس کی قدر نہیں ہوا کرتی۔سعدی نے کیا عمدہ کہا ہے گر نباشد بدوست راه بردن شرط عشق است در طلب مردن البدر جلد نمبر۷ مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵۰) نماز سے پیشتر ایمان شرط ہے۔ایک ہندو اگر نماز پڑھے گا تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ جس کا ایمان قوی ہوگا وہ دیکھے گا کہ نماز میں کیسی لذت ہے۔اور اس سے اول معرفت ہے جو خدا کے فضل سے آتی ہے اور کچھ اس کی طینت سے آتی ہے جو محمود فطرت والے (ہیں) مناسب حال اس کے فضل کے ہوتے ہیں اور اس کے