تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 65

سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ملاقات ہو تو تعارف کی وجہ سے دلوں میں اُنس پیدا ہو جاتا ہے۔وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ کینہ والی زمین سے الگ ہونے کے باعث بغض جو کہ عارضی شے ہوتا ہے وہ تو دور ہو جاتا ہے اور صرف تعارف باقی رہ جاتا ہے۔پھر دوسرا حکم یہ ہے کہ جمعہ کے دن جامع مسجد میں جمع ہوں کیونکہ ایک شہر کے لوگوں کا ہر روز جمع ہونا تو مشکل ہے۔اس لئے یہ تجویز کی کہ شہر کے سب لوگ ہفتہ میں ایک دفعہ مل کر تعارف اور وحدت پیدا کریں آخر کبھی نہ کبھی تو سب ایک ہو جاویں گے۔پھر سال کے بعد عیدین میں یہ تجویز کی کہ دیہات اور شہر کے لوگ مل کر نماز ادا کریں تا کہ تعارف اور اُنس بڑھ کر وحدت جمہوری پیدا ہو پھر اسی طرح تمام دنیا کے اجتماع کے لئے ایک دن عمر بھر میں مقرر کر دیا کہ مکہ کے میدان میں سب جمع ہوں۔غرضیکہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ آپس میں اُلفت اور اُنس ترقی پکڑے۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۴ مورخه ۸ رستمبر ۱۹۰۴ ء صفحه ۵) اس میں شک نہیں کہ نماز میں برکات ہیں مگر وہ برکات ہر ایک کو نہیں مل سکتے۔نماز بھی وہی پڑھتا ہے جس کو خدا تعالی نماز پڑھاوے ورنہ وہ نماز نہیں نرا پوست ہے جو پڑھنے والے کے ہاتھ میں ہے اس کو مغز سے کچھ واسطہ اور تعلق ہی نہیں۔اسی طرح کلمہ بھی وہی پڑھتا ہے جس کو خدا تعالیٰ کلمہ پڑھوا دے۔جب تک نماز اور کلمہ پڑھنے میں آسمانی چشمہ سے گھونٹ نہ ملے تو کیا فائدہ؟ وہ نماز جس میں حلاوت اور ذوق ہو اور خالق اتاق ہوکر پوری نیازمند اور کانمونہ ہو سکےساتھی پیدا ہو جاتی جس سے سچا تعلق قائم ہو کر پوری نیاز مندی اور خشوع کا نمونہ ہو اُس کے ساتھ ہی ایک تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے جس کو پڑھنے والا فورا محسوس کر لیتا ہے کہ اب وہ وہ نہیں رہا جو چند سال پہلے تھا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مؤرخه ۱۰/ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۶) نماز جو کہ پانچ وقت ادا کی جاتی ہے۔اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اگر وہ نفسانی جذبات اور خیالات سے اُسے محفوظ نہ رکھے گا تب تک وہ سچی نماز ہر گز نہ ہوگی۔نماز کے معنے ٹکریں مار لینے اور رسم اور عادت کے طور پر ادا کرنے کے ہر گز نہیں۔نماز وہ شے ہے جسے دل بھی محسوس کرے کہ روح پگھل کر خوفناک حالت میں آستانہ الوہیت پر گر پڑے۔جہاں تک طاقت ہے وہاں تک رقت کے پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اور تضرع سے دُعا مانگے کہ شوخی اور گناہ جو اندر نفس میں ہیں وہ دور ہوں اسی قسم کی نماز با برکت ہوتی ہے۔اور اگر وہ اس پر استقامت اختیار کرے گا تو دیکھے گا کہ رات کو یا دن کو ایک ٹور اس کے قلب پر گرا ہے اور نفس اتارہ کی شوخی کم ہوگئی ہے۔جیسے اثر دہا میں ایک سید قاتل ہے اسی طرح نفس اتارہ میں بھی سید قاتل ہوتا ہے اور جس نے اُسے پیدا کیا اسی کے پاس اس کا علاج ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۴ مورخه ۸ رستمبر ۱۹۰۴ ء صفحه ۳)