تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 64

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۴ سورة البقرة پہلو رکھا ہے اور محبت کی حالت کے اظہار کے لئے حج رکھا ہے۔ خوف کے جس قدر ارکان ہیں وہ نماز کے ارکان سے بخوبی واضح ہیں کہ کس قدر تدلل اور اقرار عبودیت اس میں موجود ہے اور حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ (۳) نماز انسان کا تعویذ ہے پانچ وقت دُعا کا موقع ملتا ہے کوئی دُعا توسنی جائے گی ۔ اس لئے نماز کو بہت سنوار الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۱ء صفحہ ۷ ) کر پڑھنا چاہئے اور مجھے یہی بہت عزیز ہے۔ نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے۔ دوسرے سے ملے ہوئے ہوں ۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کر سکیں وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔ یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔ پھر اسی وحدت کے لئے حکم ہے کہ روزانہ نمازیں محلہ کی مسجد میں اور ہفتہ کے بعد شہر کی مسجد میں اور پھر سال کے بعد عید گاہ میں جمع ہوں اور کل زمین کے مسلمان سال میں ایک مرتبہ بیت اللہ میں اکٹھے ہوں ۔ ان تمام احکام کی غرض وہی وحدت ہے۔ لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۸۱، ۲۸۲) اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ تمام انسانوں کو ایک نفس واحد کی طرح بناوے۔ اس کا نام وحدت جمہوری ہے جس سے بہت سے انسان بحالت مجموعی ایک انسان کے حکم میں سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے بھی یہی منشاء ہوتا ہے کہ تسبیح کے دانوں کی طرح وحدت جمہوری کے ایک دھاگہ میں سب پروئے جائیں۔ یہ نمازیں با جماعت جو کہ ادا کی جاتی ہیں وہ بھی اسی وحدت کے لئے ہیں تا کہ کل نمازیوں کا ایک وجود شمار کیا جاوے اور آپس میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم اس لئے ہے کہ جس کے پاس زیادہ نور ہے وہ دوسرے کمزور میں سرایت کر کے اُسے قوت دیوے حتی کہ حج بھی اسی لئے ہے۔ اس وحدت جمہوری کو پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی ابتداء اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے کی ہے کہ اول یہ حکم دیا کہ ہر ایک محلہ والے پانچ وقت نمازوں کو باجماعت محلہ کی مسجد میں ادا کریں تا کہ اخلاق کا تبادلہ آپس میں ہو اور انوار مل ملا کر کمزوری کو دور کر دیں اور آپس میں تعارف ہو کر انس پیدا ہو جاوے۔ تعارف بہت عمدہ شے ہے کیونکہ اس سے اُنس بڑھتا ہے جو کہ وحدت کی بنیاد ہے حتی کہ تعارف والا دشمن ایک نا آشنا دوست سے بہت اچھا ہوتا ہے کیونکہ جب غیر ملک میں