تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 52

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲ سورة البقرة ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوۃ میں اور دُعا میں کیا فرق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے الصلوةُ هِيَ الدُّعَاءِ الصَّلوةُ مُخُ الْعِبَادَةِ یعنی نماز ہی دُعا ہے، نماز عبادت کا مغز ہے۔جب انسان کی دُعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوٰۃ نہیں۔لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اُس کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے اور ادب ، انکسار، تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اُس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوۃ میں ہوتا ہے۔اصل حقیقت دُعا کی وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔یہی دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسان کو نا معقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کرے۔اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دُعا کرے۔یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہے کہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں ہارج ہو جاتے ہیں۔خاص کر خامی اور کیچ پنے کے زمانہ میں یہ اُمور ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں۔صلوٰۃ کا لفظ پُرسوز معنے پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے۔ویسی ہی گدازش دُعا میں پیدا ہونی چاہئے۔جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اُس کا نام صلوۃ ہوتا ہے۔( بدر جلد نمبر ۸ مورخه ۲۵ مئی ۱۹۰۵ صفحه ۴) دوسرا امر نماز ہے جس کی پابندی کے لئے بار بار قرآن شریف میں کہا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی یادرکھو کہ اسی قرآن مجید میں اُن مصلیوں پر لعنت کی ہے جو نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اپنے بھائیوں سے مجید بخل کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں سے محفوظ کر دے۔انسان درد اور فرقت میں پڑا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب اسے حاصل ہو جس سے وہ اطمینان اور سکینت اسے ملے جو نجات کا نتیجہ ہے مگر یہ بات اپنی کسی چالا کی یا خوبی سے نہیں مل سکتی جب تک خدا نہ بلاوے یہ جانہیں سکتا جب تک وہ پاک نہ کرے یہ پاک نہیں ہوسکتا۔بہتیرے لوگ اس پر گواہ ہیں کہ بار ہا یہ جوش طبیعیتوں میں پیدا ہوتا ہے کہ فلاں گناہ دور ہو جاوے جس میں وہ مبتلا ہیں لیکن ہزار کوشش کریں دور نہیں ہوتا باوجود یکہ نفس لوامہ ملامت کرتا ہے لیکن پھر بھی لغزش ہو جاتی ہے۔اس سے معلوم