تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 51

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱ سورة البقرة کہ آفتاب کی طرح ہر ایک ایمانی امر اس پر منکشف ہو جاوے۔اگر ایسا ہو تو پھر بتلاؤ کہ اس کے ثواب حاصل کرنے کا کونسا موقع ملا۔کیا ہم اگر آفتاب کو دیکھ کر کہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے؟ ہر گز نہیں۔کیوں صرف اس لئے کہ اس میں غیب کا پہلو کوئی بھی نہیں لیکن جب ملائکہ، خدا اور قیامت وغیرہ پر ایمان لاتے ہیں تو ثواب ملتا ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ ان پر ایمان لانے میں ایک پہلو غیب کا پڑا ہوا ہے۔ایمان لانے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ اخفا بھی ہو اور طالب حق چند قرائن صدق کے لحاظ سے ان باتوں کو مان لے۔اور مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کے یہ معنے ہیں کہ جو کچھ ہم نے ان کو عقل ، فکر، فہم ، فراست اور رزق اور مال وغیرہ عطا کیا ہے اس میں سے خدا کی راہ میں اس کے لئے صرف کرتے ہیں۔یعنی فعل کے ساتھ بھی کوشش کرتے ہیں پس جو شخص دُعا اور کوشش سے مانگتا ہے وہ متقی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔یاد رکھو کہ جو شخص پوری فہم اور عقل اور زور سے تلاش نہیں کرتا وہ خدا کے نزدیک ڈھونڈنے والا نہیں قرار پاتا اور اس طرح سے امتحان کرنے والا ہمیشہ محروم رہتا ہے لیکن اگر وہ کوششوں کے ساتھ دُعا بھی کرتا ہے اور پھر اُسے کوئی لغزش ہوتی ہے تو خدا اُسے بچاتا ہے اور جو آسانی تن کے ساتھ دروازہ پر آتا ہے اور امتحان لیتا ہے تو خدا کو اس کی پروا نہیں ہے۔ابو جہل وغیرہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تو نصیب ہوئی اور وہ کئی دفعہ آپ کے پاس آیا بھی لیکن چونکہ آزمائش کے لئے آتا رہا اس لئے گر گیا اور اسے ایمان نصیب نہ ہوا۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۸ مؤرخه ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸۴) اس جگہ ہدایت سے مُراد ایک اور اعلیٰ امر ہے۔جو انسان کی کمال ترقیات پر دلالت کرتا ہے اور ان اعمال کو صبر اور استقلال کے ساتھ بجالانے سے حاصل ہوتا ہے۔پہلا ایمان غیب پر ہے لیکن اگر ایمان صرف غیب ستک محدود رہے۔تو اس میں کیا فائدہ وہ تو ایک سنی سنائی بات ہے۔اس کے بعد معرفت اور مشاہدہ کا درجہ حاصل کرنا چاہئے۔جو کہ اس ایمان کے بعد رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور انعام کے عطا ہوتا ہے اور انسان کی حالت غیب سے منتقل ہو کر علم شہود کی طرف آجاتی ہے۔جن باتوں پر وہ پہلے غیب کے طور پر ایمان لاتا تھا اب ان کا عارف بن جاتا ہے اور اس کو رفتہ رفتہ وہ درجہ عطا ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔پس غیب پر ایمان لانے والے کو آگے ترقی دی جاتی ہے اور وہ مشاہدہ کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔البدر جلد ۶ نمبر ۳ مؤرخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۲)