تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 48

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۸ سورة البقرة اس تعلیم پر عمل کریں۔نہ ان کے پاس ضروریات زندگی بسر کرنے کو کچھ رہے اور نہ کوئی آرام کی صورت کیونکہ جو کچھ ان کے پاس ہو کوئی مانگ لے تو پھر ان کے پاس خاک رہ جاوے۔اگر محنت مزدوری سے کمانا چاہیں تو کوئی بیگار میں لگا دے غرض اس تعلیم پر زور تو بہت دیا گیا ہے اور پادریوں کو دیکھا ہے کہ وہ بازاروں میں اس تعلیم کی بڑے شدومد سے تعریف کر کے وعظ کرتے ہیں لیکن جب عمل پوچھو تو کچھ نہیں ہے گویا بگفتن ہی سب کچھ ہے کرنے کے واسطے کچھ نہیں اس لئے اُس کا نام اخلاق نہیں ہے۔اخلاق یہ ہے کہ تمام قومی کو جو اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں برمحل استعمال کیا جاوے۔مثلاً عقل دی گئی ہے اور کوئی دوسرا شخص جس کو کسی امر میں واقفیت نہیں اس کے مشورہ کا محتاج ہے اور یہ اس کی نسبت پوری واقفیت رکھتا ہے تو اخلاق کا تقاضا یہ ہونا چاہئے کہ اپنے عقل سلیم سے اس کو پوری مدد دے اور اس کو سچا مشورہ دے۔لوگ ان باتوں کو معمولی نظر سے دیکھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا کیا بگڑتا ہے اس کو خراب ہونے دو۔یہ شیطانی فعل ہے۔انسانیت سے بعید ہے کہ وہ کسی دوسرے کو بگڑتا دیکھے اور اس کی مدد کے لئے تیار نہ ہو۔نہیں بلکہ چاہئے کہ نہایت توجہ اور دلدہی سے اس کی بات سنے اور اپنی عقل وسمجھ سے اس کو ضروری مدد دے۔لیکن اگر کوئی یہاں یہ اعتراض کرے کہ مِنَا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کیوں فرمایا ؟ مینا کے لفظ سے نکل کی بُو آتی ہے۔چاہئے تھا کہ ہر چه داری خرچ کن در راه او۔اصل بات یہ ہے کہ اس سے بخل ثابت نہیں ہوتا۔قرآن شریف خدائے حکیم کا کلام ہے۔حکمت کے معنے ہیں شے راحل داشتن۔پس مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ محل اور موقع کو دیکھ کر خرچ کرو۔جہاں تھوڑ ا خرچ کرنے کی ضرورت ہے وہاں تھوڑا خرچ کرو اور جہاں بہت خرچ کرنے کی ضرورت ہے وہاں بہت خرچ کرو۔اب مثلاً عفو ہی ایک اخلاقی قوت ہے اس کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا عفو کے لائق ہے یا نہیں مجرم دو قسم کے ہوتے ہیں بعض تو اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان سے کوئی حرکت ایسی سرزد ہو جاتی ہے جو غصہ تو لاتی ہے لیکن وہ معافی کے قابل ہوتے ہیں اور ( بعض ) ایسے ہوتے ہیں کہ اگر اُن کی کسی شرارت پر چشم پوشی کی جاوے اور اُس کو معاف کر دیا جاوے تو وہ زیادہ دلیر ہو کر مزید نقصان کا باعث بنتا ہے۔مثلاً ایک خدمتگار ہے جو بڑا نیک اور فرمان بردار ہے وہ چاء لا یا اتفاق سے اس کو ٹھوکر لگی اور چاء کی پیالی گر کر ٹوٹ گئی