تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 45

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵ سورة البقرة تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر کرے۔یہ یا درکھو کہ قرآن شریف میں ایک عجیب و غریب اور سچا فلسفہ ہے۔اس میں ایک نظام ہے جس کی قدر نہیں کی جاتی جب تک نظام اور ترتیب قرآنی کو مد نظر نہ رکھا جاوے اور اس پر پورا غور نہ کیا جاوے قرآن شریف کی تلاوت کے اغراض پورے نہ ہوں گے۔(الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۳) غرض بات یہ تھی کہ قرآن شریف میں ترتیب کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اور یہ آئتیں جو میں نے پڑھی تھیں ان میں ترتیب کو محوظ رکھا گیا ہے يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ۔یادرکھو ايقا اتَّقَا تین قسم کا ہوتا ہے۔پہلی قسم ایفا کی علمی رنگ رکھتی ہے۔یہ حالت ایمان کی صورت میں ہوتی ہے۔دوسری قسم عملی رنگ رکھتی ہے جیسا کہ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ میں فرمایا ہے۔انسان کی وہ نمازیں جو شبہات اور وساوس میں مبتلا ہیں کھڑی نہیں ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یقرون نہیں فرمایا بلکہ يُقيمون فرمایا یعنی جو حق ہے اس کے ادا کرنے کا۔سنو! ہر ایک چیز کی ایک علت غائی ہوتی ہے اگر اس سے رہ جاوے تو وہ بے فائدہ ہو جاتی ہے مثلاً ایک بیل جو قلبہ رانی کے واسطے خریدا گیا ہے اپنے منصب پر اس وقت قائم سمجھا جاوے گا کہ وہ کر کے دکھا دے نہ صرف یہ کہ اس کی غرض و غایت کھانے پینے ہی تک محدودر ہے۔وہ اپنی علت غائی سے دور ہے اور اس قابل ہے کہ اس کو ذبح کیا جاوے۔اسی طرح يُقِيمُونَ الصَّلوة سے لوازم الصلوۃ معراج ہے اور یہ وہ حالت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق شروع ہوتا ہے۔مکاشفات اور رویا صالحہ آتے ہیں ، لوگوں سے انقطاع ہوتا جاتا ہے اور خدا کی طرف ایک تعلق پیدا ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ تبثل تام ہو کر خدا میں جا ملتا ہے۔صلی جلنے کو کہتے ہیں جیسے کباب کو بھونا جاتا ہے اسی طرح نماز میں سوزش لازمی ہے۔جب تک دل بریان نہ ہو نماز میں لذت اور سرور پیدا نہیں ہوتا اور اصل تو یہ ہے کہ نماز ہی اپنے بچے معنوں میں اُس وقت ہوتی ہے نماز میں یہ شرط ہے کہ وہ بجميع شرائط ادا ہو جب تک وہ ادا نہ ہو وہ نماز نہیں ہے اور نہ وہ کیفیت جو صلوۃ میں میل نما کی ہے حاصل ہوتی ہے۔یا درکھو صلوۃ میں حال اور قال دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔بعض وقت اعلام تصویری ہوتا ہے ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جس سے دیکھنے والے کو پتہ ملتا ہے کہ اس کا منشاء یہ ہے۔ایسا ہی صلوۃ میں منشاء الہی کی تصویر ہے۔نماز میں جیسے زبان سے کچھ پڑھا جاتا ہے ویسے ہی اعضا اور جوارح کی حرکات سے کچھ دکھایا