تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 44
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴ سورة البقرة جیسے دھرم مہوتسو کے مضمون میں انسان کی تین حالتیں ذکر کی گئی ہیں جو انسان پر ابتداء سے انتہا تک وارد ہوتی ہیں۔اسی طرح یہاں بھی قرآن نے جو انسان کو تمام مراحل ترقی کے طے کرانے آیا۔اتقا سے شروع کیا۔یہ ایک تکلف کا راستہ ہے، یہ ایک خطر ناک میدان ہے۔اُس کے ہاتھ میں تلوار ہے اور مقابل بھی تلوار ہے۔اگر بچ گیا تو نجات پا گیا وَ إِلا أَسْفَلُ السَّافِلِين میں پڑ گیا۔چنانچہ یہاں متقی کی صفات میں یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ ہم دیتے ہیں اُسے سب کا سب خرچ کر دیتا ہے۔متقی میں ابھی اس قدر ایمانی طاقت نہیں جو نبی کی شان ہوتی ہے کہ وہ ہمارے بادی کامل کی طرح گل کا گل دیا ہوا خدا کا خدا کو دے دے۔اس لئے پہلے مخصر سائیکس لگا یا گیا تا کہ چاشنی چکھ کر زیادہ کے لئے تیار ہو جاوے۔وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ۔رزق سے مراد صرف مال نہیں بلکہ جو کچھ اُن کو عطا ہوا ؛ علم ، حکمت، طبابت، یہ (سب) کچھ رزق میں ہی شامل ہے۔اُس کو اسی میں سے خدا کی راہ میں بھی خرچ کرتا ہے۔انسان نے اس راہ میں بتدریج اور زمینہ بہ زینہ ترقی کرنا ہے۔اگر انجیل کی طرح یہ تعلیم ہوتی کہ گال پر ایک طمانچہ کھا کر دوسرے طمانچہ کے لئے گال آگے رکھ دی جاوے۔یا سب کچھ دے دیا جاوے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح تعلیم کے ناممکن التعمیل ہونے کے باعث ثواب سے مرحوم رہتے۔لیکن قرآن تو حسب فطرت انسانی آہستہ آہستہ ترقی کراتا ہے۔انجیل کی مثال تو اُس لڑکے کی ہے جو مکتب میں داخل ہوتے ہی بڑی مشکل مکتب کی کتاب پڑھنے کے لئے مجبور کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اُس کی حکمت کا یہی تقاضا ہونا چاہئے تھا کہ تدریج کے ساتھ تعلیم کی تکمیل ہو۔رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۴۴ تا ۴۷) قرآن شریف کی اصل غرض اور غایت دنیا کو تقویٰ کی تعلیم دینا ہے جس کے ذریعہ وہ ہدایت کے منشاء کو حاصل کر سکے۔اب اس آیت میں تقویٰ کے تین مراتب کو بیان کیا ہے۔الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ۔لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں مگر طوطے کی طرح سے یونہی بغیر سوچے سمجھے چلے جاتے ہیں جیسے ایک پنڈت اپنی پوتھی کو اندھا دھند پڑھتا جاتا ہے نہ خود کچھ سمجھتا ہے اور نہ سننے والوں کو پتہ لگتا ہے اسی طرح پر قرآن شریف کی تلاوت کا طریق صرف یہ رہ گیا ہے کہ دو چار سپارے پڑھ لئے اور کچھ معلوم نہیں کہ کیا پڑھا؟ زیادہ سے زیادہ یہ کہ سر لگا کر پڑھ لیا۔اور ق اور ع کو پورے طور پر ادا کر دیا۔قرآن شریف کو عمدہ طور پر اور خوش الحانی سے پڑھنا یہ بھی ایک اچھی بات ہے مگر قرآن شریف کی