تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 40

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰ سورة البقرة مبارک وہ جن کو مردم شناسی کی عقل دی جاتی ہے۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۳۶ تا۳۳۹) متقی کی حالت میں چونکہ رویت باری تعالیٰ اور مکالمات و مکاشفات کے مراتب حاصل نہیں ہوتے۔اس لئے اس کو اول ایمان بالغیب ہی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ تکلف کے طور پر ایمانی درجہ ہوتا ہے کیونکہ قرائن قویہ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لاتا ہے جو بَيْنَ الشَّاكِ وَالْيَقِينِ ہوتا ہے۔یا د رکھنا چاہئے کہ بعض آدمی تقوی کے اس درجہ پر بھی نہیں ہوتے یہ دہر یہ منش لوگ ہیں وہ آثار اور آیات قدرت کو تو دیکھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ہستی کے قائل نہیں ہوتے اور نہیں مانتے مگر متقی اللہ تعالیٰ کو مان لیتا ہے۔اور اس پر ایمان لاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ۔یہ مت سمجھو کہ یہ ادنی درجہ ہے یا اس کا مرتبہ کم ہے۔اور جو فہم سے بڑھ کر قدم مارتے ہیں وہ بڑے مجاہد ہیں اور اُن کے لئے بڑے بڑے مراتب اور مدارج ہیں نہیں بلکہ یہ ایمان بالغیب متقی کے پہلے درجہ کی حالت اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی وقعت رکھتی ہے۔حدیث صحیح میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو سب سے بڑھ کر ایمان کس کا ہے۔صحابہ نے عرض کی کہ حضور آپ کا ہی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میرا کس طرح ہو سکتا ہے میں تو ہر روز جبریل کو دیکھتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نشانات کو ہر وقت دیکھتا ہوں۔پھر صحابہ نے عرض کی کہ کیا ہمارا ایمان؟ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا ایمان کس طرح تم بھی تو نشانات دیکھتے ہو۔آخر خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ صد ہا سال کے میرے بعد آئیں گے ان کا ایمان عجیب ہے کیونکہ وہ کوئی بھی ایسا نشان نہیں دیکھتے جیسے تم دیکھتے ہو مگر پھر بھی اللہ تعالی پر ایمان لاتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ متقی کو اگر وہ اسی ابتدائی درجہ میں مرجاوے تو اسی زمرہ میں داخل کر لیتا ہے اور اسی دفتر میں اس کا نام لکھ دیتا ہے باوجود یکہ وہ مکالمات اور مخاطبات الہیہ کو نہیں جانتا اور اس لذت اور نعمت سے ابھی اس نے کچھ بھی نہیں پایا لیکن پھر بھی وہ ایسی قوت دکھاتا ہے کہ نہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی رکھتا ہے بلکہ اس ایمان کو اپنے عمل سے بھی ثابت کرتا ہے یعنی يُقِيمُونَ الصَّلوةَ۔تقویٰ کی اس حالت میں نمازوں میں بھی وسوسے ہوتے ہیں اور قسم قسم کے وہم اور شکوک پیدا ہو کر خیالات کو پراگندہ کرتے ہیں، باوجود اس کے بھی وہ نماز نہیں چھوڑتے اور نہیں تھکتے اور ہارتے۔بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ چند روز نماز پڑھی اور ظنون فاسدہ اور خیالات پراگندہ دل میں گزرنے لگے۔نماز چھوڑ دی اور ہار کر بیٹھ رہے مگر متقی اپنی ہمت نہیں ہارتا وہ نماز کو کھڑی کرتا نماز گری پڑتی ہے وہ بار بارا سے