تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 36
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶ سورة البقرة کھا کر کچھ کا کچھ بنا لیا ہے۔ یہ کیا دین اور تقویٰ ہے کہ ایک ضعیف انسان اور بے چارہ بندہ ہو کر خدائی کا دعویٰ کرے۔۔۔۔۔۔۔ اصل یہ ہے کہ اخلاق فاضلہ اور تزکیہ نفس کا مدار ہے، تقویٰ اور خدا کا خوف، جو بد قسمتی سے ان لوگوں میں نہیں ہوتا ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۳،۲) حقیقت میں تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے انسان کا اکرام ہوتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۳ مورخه ۱۷ ستمبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۵) اللہ تعالیٰ کے خوف سے اور اس کو راضی کرنے کے لئے جو شخص ہر ایک بدی سے بچتا ہے اس کو متقی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ تو متقی کے لئے وعدہ کرتا ہے کہ مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق: ٣) یعنی جو اللہ تعالیٰ کے لئے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو ہر مشکل سے اللہ تعالیٰ اس کو رہائی دے دیتا ہے۔ لوگوں نے تقویٰ کے چھوڑنے کے لئے طرح طرح کے بہانے بنا رکھے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ جھوٹ بولے بغیر ہمارے کاروبار نہیں چل سکتے اور دوسرے لوگوں پر الزام لگاتے ہیں کہ اگر سچ کہا جائے تو وہ لوگ ہم پر اعتبار نہیں کرتے۔ پھر بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ سود لینے کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ ایسے لوگ کیونکر متقی کہلا سکتے ہیں؟ خدا تعالیٰ تو وعدہ کرتا ہے کہ میں منفی کو ہر ایک مشکل سے نکالوں گا اور ایسے طور سے رزق دوں گا جو گمان اور وہم میں بھی نہ آسکے ۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے جو لوگ ہماری کتاب پر عمل کریں گے ان کو ہر طرف سے اوپر سے اور نیچے (سے) رزق دوں گا ۔ پھر فرمایا ہے کہ فی السَّمَاءِ رِزْقُكُمُ (الذاریات: ۲۳) جس کا مطلب یہی ہے کہ رزق تمہارا تمہاری اپنی محنتوں اور کوششوں اور منصوبوں سے وابستہ نہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔ یہ لوگ ان وعدوں سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور تقوی اختیار نہیں کرتے جو شخص تقوی اختیار نہیں کرتا وہ معاصی میں غرق رہتا ہے اور بہت ساری رکاوٹیں اس کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔ (البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مؤرخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۵) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ مَنْ عَادَلِي وَلِيًّا فَقَدْ أَذَنْتُهُ بِالْحَرْب (الحدیث) جو شخص میرے ولی کا مقابلہ کرتا ہے وہ میرے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ اب دیکھ لو کہ متقی کی شان کس قدر بلند ہے اور اس کا پایہ کس قدر عالی ہے جس کا قرب خدا کی جناب میں ایسا ہے کہ اس کا ستایا جانا خدا کا ستایا جانا ہو تو خدا اُس کا کس قدر معاون و مددگار ہوگا۔ لوگ بہت سی مصائب میں گرفتار ہوتے ہیں لیکن متقی بچائے جاتے ہیں۔ بلکہ ان کے پاس جو آ جاتا ہے وہ بھی بچایا جاتا ہے۔ مصائب کی کوئی حد نہیں، انسان کا اپنا اندر اس قدر مصائب سے بھرا ہوا ہے کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں۔ امراض کو ہی دیکھ لیا جاوے کہ ہزار ہا مصائب کے پیدا کرنے کو کافی ہیں لیکن جو