تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 31
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١ سورة البقرة پر ہیز کرنے اور نصیحت سنے کو تیار ہو۔اس درجہ کا متقی وہ ہے جوختی بالطبع ہو کر حق کی بات سنے کو تیار ہو جیسے جب کوئی مسلمان ہوتا ہے تو وہ منتقی بنتا ہے۔جب کسی غیر مذہب کے اچھے دن آئے تو اس میں اتقا پیدا ہوا۔تُجب ، غرور، پندار دور ہوا۔یہ تمام روکیں تھیں جو دور ہوگئیں۔ان کے دور ہونے سے تاریک گھر کی کھڑکی کھل گئی اور شعاعیں اندر داخل ہو گئیں۔یہ جو فرمایا کہ یہ کتاب مُتَّقین کی ہدایت ہے۔یعنی هدی لِلْمُتَّقِين تو اتقا جو افتعال کے باب پر ہے اور یہ باب تکلف کے لئے آیا کرتا ہے یعنی اس میں اشارہ ہے کہ جس قدر یہاں ہم تقویٰ چاہتے ہیں، وہ تکلف سے خالی نہیں جس کی حفاظت کے لئے اس کتاب میں ہدایات ہیں۔گویا منتقلی کو نیکی کرنے میں تکلیف سے کام لینا پڑتا ہے۔جب یہ درجہ گزر جاتا ہے تو سالک عبد صالح ہو جاتا ہے گویا تکلیف کا رنگ دور ہوا۔اور صالح نے طبعاً و فطرتا نیکی شروع کی وہ ایک قسم کے دار الامان میں ہے جس کو کوئی خطرہ نہیں۔اب کل جنگ اپنے نفسانی جذبات کے برخلاف ختم ہو چکی اور وہ امن میں آ گیا اور ہر ایک قسم کے خطرات سے پاک ہو گیا۔اسی امر کی طرف ہمارے ہادی کامل نے اشارہ کیا ہے فرمایا کہ ہر ایک کے ساتھ شیطان ہوتا ہے لیکن میرا شیطان مسلم ہو گیا ہے۔سونگلی کو ہمیشہ شیطان کے مقابل جنگ ہے لیکن جب وہ صالح ہو جاتا ہے تو کل جنگیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔مثلاً ایک ریا ہی ہے جس سے اُسے آٹھوں پہر جنگ ہے۔متقی ایک ایسے میدان میں ہے جہاں ہر وقت لڑائی ہے۔اللہ کے فضل کا ہاتھ اُس کے ساتھ ہو تو اسے فتح ہو۔جیسے ریا جس کی چال ایک چیونٹی کی طرح ہے۔بعض وقت انسان بے سمجھے لیکن موقعہ پر ریا کو دل میں پیدا ہونے کا موقعہ دے دیتا ہے۔مثلاً ایک کا چاقو گم ہو جاوے اور وہ دوسرے سے دریافت کرے۔تو اس موقعہ پر ایک متقی کا جنگ شیطان سے شروع ہو جاتا ہے جو اُسے سکھاتا ہے کہ مالک چاقو کا اس طرح دریافت کرنا ایک قسم کی بے عزتی ہے جس سے اُس کے افروختہ ہونے کا احتمال ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ آپس میں لڑائی بھی ہو جاوے۔اس موقعہ پر ایک متقی کو اپنے نفس کی بدخواہش سے جنگ ہے۔اگر اس شخص میں محض اللہ دیانت موجود ہو تو غصہ کرنے کی اس میں ضرورت ہی کیا ہے کیونکہ دیانت جس قدر مخفی رکھی جاوے اسی قدر بہتر ہو۔مثلاً ایک جواہری کو راستہ میں چند چوریل جاویں اور چور آپس میں اُس کے متعلق مشورہ کریں۔بعض اُسے دولت مند بتلا دیں اور بعض کہیں کہ وہ کنگال ہے۔اب مقابلتا یہ جواہری انہیں کو پسند کرے گا جو اُسے کنگال ظاہر کریں گے۔اسی طرح یہ دنیا کیا ہے؟ ایک قسم کی دارالا بتلا ہے۔وہی اچھا ہے جو ہر ایک امر خفیہ رکھے اور ریا سے بچے۔وہ لوگ جن کے اعمال لکھی ہوتے ہیں۔وہ کسی پر