تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 30

سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سفر کی صعوبتیں اُٹھاتا ہے زکوۃ میں اپنی محنت کی کمائی دوسروں کے سپر د کر دیتا ہے یہ سب تکالیف شرعیہ ہیں اور انسان کے واسطے موجب ثواب ہیں اس کا قدم خدا کی طرف بڑھاتی ہیں۔لیکن ان سب میں انسان کو ایک وسعت دی گئی ہے اور وہ اپنے آرام کی راہ تلاش کر لیتا ہے جاڑے کے موسم میں وضو کے واسطے پانی گرم کر لیتا ہے یہ سبب علالت کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لیتا ہے۔رمضان میں سحری میں اُٹھ کر خوب کھانا کھا لیتا ہے بلکہ بعض لوگ ماہ صیام میں معمول سے بھی زیادہ خرچ کھانے پینے پر کر لیتے ہیں۔غرض ان تکالیف شرعیہ میں کچھ نہ کچھ آرام کی صورت ساتھ ساتھ انسان نکالتا رہتا ہے۔اس واسطے اس سے پورے طور پر صفائی نہیں ہوتی۔اور منازل سلوک جلدی سے طے نہیں ہو سکتے۔لیکن سماوی تکالیف جو آسمان سے اُترتی ہیں ان میں انسان کا اختیار نہیں ہوتا اور بہر حال برداشت کرنی پڑتی ہے۔اس واسطے ان کے ذریعہ سے انسان کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ہر دو قسم کی تکلیف شرعی اور سماوی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ( کیا ہے )۔تکلیف شرعی کے متعلق پہلے سیپارہ میں فرمایا ہے الم و ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی مومن وہ ہے جو خدا تعالیٰ پر غیب سے ایمان لاتے ہیں اپنی نماز کو کھڑا کرتے ہیں۔یعنی صد با وساوس آکر دل کو اور طرف پھیر دیتے ہیں مگر وہ بار بار خدا کی طرف توجہ کر کے اپنی نماز کو (جو ) بہ سبب وساوس کے گرتی رہتی ہے بار بار کھڑا کرتے رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔یہ تکالیف شرعیہ ہیں۔مگران پر پورے طور سے بھروسہ حصول ثواب کا نہیں ہو سکتا کیونکہ بہت سی باتوں میں انسان غفلت کرتا ہے۔اکثر نماز کی حقیقت اور مغز سے بے خبر ہو کر صرف پوست کو ادا کرتا ہے اس واسطے انسانی مدارج کی ترقی کے واسطے سماوی تکالیف بھی رکھی گئی ہیں۔ان کا ذکر بھی خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا ہے۔جہاں فرمایا وَلَنَبْلُونَكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْاَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ ہے الطيريْنَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ أُوتِيكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتُ مِنْ ربِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرة :۱۵۲ ۱۵۸) - الحکم جلد ۱۲ نمبر ۵ مؤرخه ۱۸ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۳) سورۃ بقرہ کے شروع میں ہی جو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کہا گیا تو گویا خدا تعالیٰ نے دینے کی تیاری کی یعنی یہ کتاب منتفی کو کمال تک پہنچانے کا وعدہ کرتی ہے۔سو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کتاب اُن کے لئے نافع ہے جو