تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 446
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۶ سورة البقرة آسمانی مال جو خدائے تعالیٰ کے خاص بندوں کو ملتا ہے جس کو وہ دنیا میں تقسیم کرتے ہیں۔دنیا کا درہم ودینار نہیں بلکہ حکمت و معرفت ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے کہ : يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ وَمَنْ يُوتَ الحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِي خَيْرًا كَثِيرًا۔خیر مال کو کہتے ہیں۔سو پاک مال حکمت ہی ہے جس کی طرف حدیث نبوی میں بھی اشارہ ہے کہ: اما انا قاسم وَاللَّهُ هُوَ الْمُعْطِی۔یہی مال ہے جو سیح موعود کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۴۱، ۴۴۲) اس جگہ حکمت سے مراد علم قرآن ہے۔سو ایسے لوگ وحی خاص کے ذریعہ سے علم اور بصیرت کی راہ سے مطلع کئے جاتے ہیں اور صحیح اور موضوع میں اس خاص طور کے قاعدہ سے تمیز کر لیتے ہیں۔گو عوام اور علماء ظواہر کو اس کی طرف راہ نہیں۔یعنی جس کو خدا تعالیٰ چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی۔حکمت سے مراد علم ، عظمت ذات وصفات باری ہے۔اور خیر کثیر سے مراد اسلام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے : هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (یونس : ۵۹)۔پھر ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے۔قُلْ رَبّ زِدْنِي عِلْمًا (طه : ۱۱۵) یعنی اے میرے رب تو مجھے اپنی عظمت اور معرفت شیون اور صفات کا علم (110:2 مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۹۳) کامل بخش اور پھر دوسری جگہ فرمایا۔وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ (الانعام : ۱۶۴) ان دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اول المسلمین ٹھہرے تو اس کا یہی باعث ہوا کہ اوروں کی نسبت علوم معرفت الہی میں اعلم ہیں یعنی علم ان کا معارف الہیہ کے بارے میں سب سے بڑھ کر ہے۔اس لئے ان کا اسلام بھی سب سے اعلیٰ ہے اور وہ اول المسلمین ہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس زیادت علم کی طرف اس دوسری آیت میں بھی اشارہ ہے جیسا کہ اللہ جل شائہ فرماتا ہے: وَعَلَيْكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء : (١٣) یعنی خدا تعالیٰ نے تجھ کو وہ علوم عطا کئے جو تو خود بخود نہیں جان سکتا تھا اور فضل الہی سے فیضانِ الہی سب سے زیادہ تیرے پر ہوا یعنی تو معارف الہیہ اور اسرار اور علوم ربانی میں سب سے بڑھ گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی معرفت کے عطر کے ساتھ سب سے زیادہ تجھے معطر کیا۔غرض علم اور معرفت کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھہرایا ہے اور اگر چہ حصول حقیقت اسلام کے وسائل اور بھی ہیں جیسے صوم و صلوۃ اور دُعا اور تمام احکام الہی جو چھ سو سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن علم عظمت و وحدانیت ذات اور معرفت شیون وصفات جلالی و جمالی حضرت باری عزاسمہ، وسیلۃ الوسائل