تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 29
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹ سورة البقرة اس نے فرمایا ہے هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی قرآن شریف ان لوگوں کے لئے ہدایت ہے جو متقی ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو تکبر نہیں کرتے اور خشوع اور انکسار سے خدا تعالیٰ کے کلام میں غور کرتے ہیں وہی ہیں جو آخر کو ہدایت پاتے ہیں ۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۳۰) بباعث ضعف بشریت انسان کی فطرت میں ایک بخل بھی ہے کہ اگر ایک پہاڑ سونے کا بھی اُس کے پاس ہو تب بھی ایک حصہ بخل کا اُس کے اندر ہوتا ہے اور نہیں چاہتا کہ اپنا تمام مال اپنے ہاتھ سے چھوڑ دے لیکن جب بموجب آیت هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے ایک وہبی قوت اُس کے شامل حال ہو جاتی ہے تو پھر ایسا انشراح صدر ہو جاتا ہے کہ تمام بخل اور سارا فتح نفس دُور ہو جاتا ہے تب خدا کی رضا جوئی ہر ایک مال سے زیادہ پیاری معلوم ہوتی ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ زمین پر فانی خزانے جمع کرے بلکہ آسمان پر اپنا مال جمع کرتا ہے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۰ حاشیه ) اسلام نے بہت ہی آسان راہ رکھی ہے اور وہ کشادہ راہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اب اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا سکھائی ہے تو اس طور پر نہیں کہ دُعا تو سکھا دی لیکن سامان کچھ نہیں۔ بلکہ جہاں دُعا سکھائی ہے وہاں سب کچھ موجود ہے چنانچہ اگلی سورت میں اس قبولیت کا اشارہ ہے جہاں فرمایا ۔ ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ۔ یہ ایسی دعوت ہے کہ دعوت کا سامان پہلے سے تیار ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۵) بے نقط لکھنا کوئی اعلیٰ درجہ کی بات نہیں ، یہ ایک قسم کا تکلف ہے اور تکلفات میں پڑنالغوامر ہے ۔ مومنوں کی شان یہ ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون: ۴) یعنی مومن وہ ہوتے ہیں جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں اگر بے نقط ہی کو معجزہ سمجھتے ہو تو قرآن شریف میں بھی ایک بے نقط معجزہ ہے اور وہ یہ ہے لا رَيْبَ فِيهِ اس میں ریب کا کوئی لفظ نہیں ۔ یہی اس کا معجزہ ہے لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ ( حم السجدة : ۴۳) اس سے بڑھ کر اور کیا خوبی ہوتی ۔ میں نے کئی بار اشتہار دیا ہے کہ کوئی ایسی سچائی پیش کرو جو ہم قرآن شریف سے نہ نکال سکیں۔ (احکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مؤرخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ ۱۹۰۵ء صفحه (۹) دین کی راہ میں دو قسم کی تکلیفیں ہیں ایک تکالیف شرعیہ جیسا کہ نماز ہے اور روزہ ہے اور حج ہے اور زکوٰۃ 6 6 ہے۔ نماز کے واسطے انسان اپنے کاروبار کو ترک کرتا ہے اور ان کا ہرج بھی کر کے مسجد میں جاتا ہے۔ سردی کے موسم میں پچھلی رات اُٹھتا ہے۔ ماہ رمضان میں دن بھر کی بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے۔ حج میں