تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 441 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 441

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۱ سورة البقرة وَاذْ قَالَ إِبْرَاهِمُ رَبِّ اَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَ لَمْ تُؤْمِنُ قَالَ بَلَى وَ لكِنْ لِيَطْبِنَ قَلْبِي قَالَ فَخُذُ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرُهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلى كُلِ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعَيًّا وَاعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حكيمة۔یا درکھنا چاہئے ! کہ جو قرآن کریم میں چار پرندوں کا ذکر لکھا ہے کہ ان کو اجزاء متفرقہ یعنی جدا جدا کر کے چار پہاڑیوں پر چھوڑا گیا تھا اور پھر وہ بلانے سے آگئے تھے، یہ بھی عمل الترب کی طرف اشارہ ہے کیونکہ عمل الترب کے تجارب بتلا رہے ہیں کہ انسان میں جمیع کا ئنات الارض کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے ایک قوت مقناطیسی ہے اور ممکن ہے کہ انسان کی قوت مقناطیسی اس حد تک ترقی کرے کہ کسی پرند یا چرند کو صرف توجہ سے اپنی طرف کھینچ لے۔فتدبر ولا تغفل! (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۰۶) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قصہ پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت آپ سے بھی بڑھی ہوئی تھی۔یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ ارشاد ہوا : أَوَلَمْ تُؤْمِن کیا تو اس پر ایمان نہیں لاتا ؟ اگر چہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کا جواب یہی دیا کہ بلی ہاں ! میں ایمان لاتا ہوں مگر اطمینانِ قلب چاہتا ہوں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایسا سوال نہ کیا اور نہ ایسا جواب دینے کی ضرورت پڑی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ پہلے ہی سے ایمان کے انتہائی مرتبہ اطمینان اور عرفان پر پہنچے ہوئے تھے۔اور یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدینی رَبّى فَأَحْسَنَ ادبی تو یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے ہاں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی ایک خوبی اس سے پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا : أَوَلَمْ تُؤْمِن تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں اس پر ایمان نہیں رکھتا بلکہ یہ کہا کہ ایمان تو رکھتا ہوں مگر اطمینان چاہتا ہوں۔پس جب ایک شخص ایک شرطی اقتراح پیش کرے اور پھر یہ کہے کہ میں اطمینانِ قلب چاہتا ہوں تو وہ اس سے استدلال نہیں کر سکتا۔کیونکہ شرطی اقتراح پیش کرنے والا تو ادنی درجہ بھی ایمان کا نہیں رکھتا بلکہ وہ تو ایمان اور تکذیب کے ( درمیانی ) مقام پر ہے اور تسلیم کرنے کو مشروط به اقتراح کرتا ہے پھر وہ کیوں کر کہہ سکتا ہے