تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 440
۴۴۰ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اصل بات یہ ہے کہ جیسے ہوا کے ایک خاص اثر سے کھانا مر جاتا ہے اسی طرح انسان پر بھی اُس کا اثر ہوتا ہے۔اب اگر خاص ترکیب سے کھانے کو اس ہوا کے اثر سے محفوظ رکھ کر زندہ رکھا جاتا ہے تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے۔ممکن ہے کہ آئندہ کسی زمانہ میں یہ حقیقت بھی کھل جائے کہ انسان پر کھانے کی طرح عمل ہو سکتا ہے۔یہ علوم ہیں ان کے ماننے سے کوئی حرج لازم نہیں آتا۔آج کل کی تحقیقات اور علمی تجربوں نے ایسے موزے بنالئے ہیں کہ انسان ان کو پہن کر دریا پر چل سکتا ہے اور ایسے کوٹ ایجاد ہو گئے ہیں کہ آگ یا بندوق کی گولی اُن پر اپنا اثر نہیں کر سکتی۔اسی طرح سے کفر يَتَسَنَة کی حقیقت جو قرآن کریم کے اندر مرکوز ہے علمی طور پر بھی ثابت ہو جاوے تو کیا تعجب ہے؟ ہوا کا اثر کھانے کو تباہ کرتا ہے اور انسان کے لئے بھی ہوا کا بڑا تعلق ہے۔ہوا کے دو حصے ہیں ایک قسم کی ہوا اندر جاتی ہے تو اندر تازگی پیدا ہوتی ہے دوسری دم کے ساتھ باہر آتی ہے جو جلی ہوئی متعفن ہوا ہوتی ہے۔غرض اگر لَمْ يَتَسَنَّهُ والی بات نکل آوے تو ہمارا تو کچھ بھی حرج نہیں بلکہ جس قدر علوم طبعی پھیلتے جاتے ہیں اور پھیلیں گے اُسی قدر قرآن کریم کی عظمت اور خوبی ظاہر ہوگی۔ہم تو آئے دن دیکھتے ہیں کہ ولایت کے پکے ہوئے شور بے اور گوشت ہندوستان میں آتے ہیں اور بگڑتے نہیں۔ولایتی ادویات ہزاروں میل سے آتی ہیں اور مہینوں برسوں پڑی رہتی ہیں خراب نہیں ہوتی ہیں۔مجھے ایک شخص نے بتلایا کہ اگر انڈے کو سرسوں کے تیل میں رکھ چھوڑیں تو نہیں بگڑتا۔اس طرح پر ممکن ہے کہ انسان کے شباب اور طاقتوں پر بھی اثر پڑے بعض مسلمانوں نے بھی دم سادھنے کی کوشش کی ہے۔خود میرے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے کہا کہ میں دن میں دو بار سانس لیتا ہوں۔یہ عملی شہادت ہے کہ ہوا کو سٹرنے میں دخل ہے۔اس قسم کی ہوا سے جب بچا یا جاوے تو انسان کی عمر بڑھ جاوے تو حرج کیا ہے۔اور عمر کا بڑھنا مان لیں تو کیا حرج ہے؟ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر حکمتیں ایجاد ہوتی ہیں یا تو طبعی طور پر خدا نے قاعدہ رکھا ہوا ہے یا عناصر کے نظام میں بات رکھی ہوتی ہے۔کوئی محقق دیکھ کر بات نکال لیتا ہے۔ہم کو اس پر کوئی بحث نہیں ہے۔ہمارا تو مذہب یہ ہے کہ علوم طبیعی جس قدر ترقی کریں گے اور عملی رنگ اختیار کریں گے قرآن کریم کی عظمت دنیا میں قائم ہوگی۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۶ جولائی ۱۹۰۰ صفحه ۱ تا ۴)