تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 439
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۹ سورة البقرة کہ وہ ان آیات کو بھی ساتھ رکھیں جس میں لکھا ہے کہ مردے واپس نہیں آتے ۔ پھر ہم بطریق تنزل ایک اور جواب دیتے ہیں ۔ اس بات کو ہم نے بیان کر دیا ہے اور پھر کہتے ہیں کہ قصوں کے لئے اجمالی ایمان کافی ہے ہدایات میں چونکہ عملی رنگ لانا ضروری ہوتا ہے اس لئے اُس کا سمجھنا ضروری ہے ماسوا اس کے یہ جولکھا ہے کہ سو برس تک مردہ رہے۔ امات کے معنے آنام بھی آئے ہیں اور قوت نامیہ اور حسیہ کے زوال پر بھی موت کا لفظ قرآن کریم میں بولا گیا ہے۔ بہر حال ہم سونے کے معنے بھی اصحاب کہف کے قصہ کی طرح کر سکتے ہیں اصحاب کہف اور عزیر کے قصہ میں فرق اتنا ہے کہ اصحاب کہف کے قصہ میں ایک کتا ہے اور یہاں گدھا ہے اور نفس، کتے اور گدھے دونوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ خدا نے یہودیوں کو گدھا بنایا ہے اور ہے اور کتے کو بلغم کے قصہ میں بیان فرمایا ہے معلوم ہوتا ہے کہ نفس پیچھا نہیں چھوڑتا جو بیہوش ہوتا ہے، اُس کے ساتھ یا کتا ہوگا یا گدھا۔ غرض دوسرے طریق پر جس کا ہم نے ذکر کیا ہے آمات کے معنے آنام کرتے ہیں اور ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ سو برس چھوڑ کر کوئی دو لاکھ برس تک سویا رہے، ہماری بحث یہ ہے کہ روح ملک الموت لے جاوے پھر واپس دنیا میں نہیں آتی سونے میں بھی قبض روح تو ہوتا ہے مگر اُس کو ملک الموت نہیں لے جاتا۔ اور عرصہ دراز تک سوئے رہنا ایک ایسا امر ہے کہ اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو سکتا۔ ہندوؤں کی کتابوں میں دم سادھنے ( حبس دم کرنے کی ترکیبیں لکھی ہوئی ہیں اور جوگ ابھیاس کی منزلوں میں دم سادھنا بھی ہے۔ ابھی تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ اخبارات میں لکھا تھا کہ ریل کی سڑک تیار ہوتی تھی تو ایک سادھو کی کٹیا نکلی ۔ ایسا ہی اخبارات میں ایک لڑکے کی ہیں سال تک سوئے رہنے کی خبر گشت کر رہی تھی۔ غرض یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے کہ ایک آدمی سو سال تک سویا رہے۔ پھر یہ لفظ لَمْ يَتَسَنَّهُ قابل غور ہے اور موجودہ زمانہ کے تجربہ پر لحاظ کرنے کے بعد لَمْ يَتَسَنَّهُ کی حقیقت سمجھ لینا کچھ بھی مشکل نہیں ہے، ایک ثقہ آدمی لکھتا ہے کہ میں نے گوشت کھایا ہے جو میری پیدائش سے ۳۰ برس پہلے کا پکا ہوا تھا۔ ہوا نکال کر بند کر لیا گیا تھا۔ اب ولایت یورپ اور امریکہ سے ہر روز ہزاروں لاکھوں بوتلوں میں لَمْ يَتَسَنَّهُ ، کھانے پکے پکائے آتے ہیں۔ لَمْ يَتَسَہ کا اثر تو ہندوؤں کے جوگ پر پڑتا ہے اور آج کل کی علمی بلند پروازیوں کی چلے آتے حقیقت کھولتا ہے کہ قرآن کریم میں پہلے سے درج ہے۔