تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 28
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸ سورة البقرة کاش دنیا کو معلوم ہوتا کہ روح کی لذت کس چیز میں ہے اور پھر وہ معلوم کرتی کہ وہ قرآن شریف اور صرف قرآن شریف میں موجود ہے۔ دیکھو جس جس قدر انسان تبدیلی کرتا جاتا ہے اسی قدر وہ ابدال کے زمرہ میں داخل ہوتا جاتا ہے حقائق قرآنی نہیں کھلتے جب تک ابدال کے زمرہ میں داخل نہ ہو۔ لوگوں نے ابدال کے معنے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے اور اپنے طور پر کچھ کا کچھ سمجھ لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ابدال وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اندر پاک تبدیلی کرتے ہیں۔ اور اس تبدیلی کی وجہ سے ان کے قلب گناہ کی تاریکی اور زنگ سے صاف ہو جاتے ہیں شیطان کی حکومت کا استیصال ہو کر اللہ تعالیٰ کا عرش ان کے دل پر ہوتا ہے پھر وہ روح القدس سے قوت پاتے اور خدا تعالیٰ سے فیض پاتے ہیں۔ تم لوگوں کو میں بشارت دیتا ہوں کہ تم میں سے جو اپنے اندر تبدیلی کرے گا وہ ابدال ہے انسان اگر خدا کی طرف قدم اُٹھائے تو اللہ تعالیٰ کا فضل دوڑ کر اس کی دستگیری کرتا ہے۔ یہ یہ سچی بات ہے اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ چالاکی سے علوم القرآن نہیں آتے ۔ دماغی قوت اور ذہنی ترقی قرآنی علوم کو جذب کرنے کا اکیلا باعث نہیں ہو سکتا۔ اصل ذریعہ تقویٰ ہی ہے متقی کا معلم خدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبیوں پر اُمّیت غالب ہوتی ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لئے اُمّی بھیجا کہ باوجود یکہ آپ نے نہ کسی مکتب میں تعلیم پائی اور نہ کسی کو استاد بنایا۔ پھر آپ نے وہ معارف اور حقائق بیان کئے جو دنیوی علوم کے ماہروں کو دنگ اور حیران کر دیا قرآن شریف جیسی پاک ، کامل کتاب آپ کے لبوں پر جاری ہوئی ۔ جس کی فصاحت و بلاغت نے سارے عرب کو خاموش کرا دیا۔ وہ کیا بات تھی جس کے سبب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علوم میں سب سے بڑھ گئے؟ وہ تقویٰ ہی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وسلم کی مطہر زندگی لی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ قرآن شریف جیسی کتاب وہ لائے ۔ جس کے علوم نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ آپ کا امی ہونا ایک نمونہ اور دلیل ہے اس امر کی کہ قرآنی علوم یا آسمانی علوم کے لئے تقویٰ مطلوب ہے نہ دنیوی چالاکیاں ۔ غرض قرآن شریف کی اصل غرض اور غایت دنیا کو تقویٰ کی تعلیم دینا ہے جس کے ذریعہ وہ ہدایت کے منشاء کو حاصل کر سکے۔ (الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲، مؤرخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۱ تا ۳) یہ بات بدیہی ہے کہ جب تک انسان اپنے اخلاق رڈ یہ کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک ان اخلاق کے مقابل پر جو اخلاق فاضلہ ہیں جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں اُن کو قبول نہیں کر سکتا کیونکہ دو ضد میں ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی ابتدا میں