تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 431
۴۳۱ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوں گے کہ آتے ہی قرآن کی ان آیتوں کو بھی منسوخ کر دیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی منسوخ نہیں ہوئیں اور اس قدر انقلاب سے پھر بھی ختم نبوت میں حرج نہیں آئے گا۔اس زمانہ میں جو تیرہ سو برس عہد نبوت کو گزر گئے اور خود اسلام اندرونی طور پر تہتر فرقوں پر پھیل گیا۔بچے مسیح کا یہ کام ہونا چاہئے کہ وہ دلائل کے ساتھ دلوں پر فتح پاوے نہ تلوار کے ساتھ اور صلیبی عقیدہ کو واقعی اور سچے ثبوت کے ساتھ توڑ دے نہ یہ کہ اُن صلیوں کو توڑتا پھرے جو چاندی یا سونے یا پیتل یا لکڑی سے بنائی جاتی ہیں۔اگر تم جبر کرو گے تو تمہارا جبر اس بات پر کافی دلیل ہے کہ تمہارے پاس اپنی سچائی پر کوئی دلیل نہیں، ہر یک نادان اور ظالم طبع جب دلیل سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر تلوار یا بندوق کی طرف ہاتھ لمبا کرتا ہے مگر ایسا مذہب ہر گز ! ہر گز ! خدا تعالی کی طرف سے نہیں ہو سکتا جو صرف تلوار کے سہارے سے پھیل سکتا ہے نہ کسی اور طریق سے۔اگر تم ایسے جہاد سے باز نہیں آسکتے اور اس پر غصہ میں آکر راستبازوں کا نام بھی دجال اور ملحد رکھتے ہو تو ہم ان دو فقروں پر اس تقریر کو ختم کرتے ہیں: قُلْ يَايُّهَا الكَفِرُونَ لا اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (الكافرون : ۳۰۲) اندرونی تفرقہ اور پھوٹ کے زمانہ میں تمہارا فرضی مسیح اور فرضی مہدی کس کس پر تلوار چلائے گا ؟ کیا سنیوں کے نزدیک شیعہ اس لائق نہیں کہ اُن پر تلوار اُٹھائی جائے ؟ اور شیعوں کے نزدیک سنتی اس لائق نہیں کہ ان سب کو تلوار سے نیست و نابود کیا جاوے؟ پس جب کہ تمہارے اندرونی فرقے ہی تمہارے عقیدہ کی رو سے مستوجب سزا ہیں تو تم کس کس سے جہاد کرو گے؟ مگر یاد رکھو کہ خدا تلوار کا محتاج نہیں وہ اپنے دین کو آسمانی نشانوں کے ساتھ زمین پر پھیلائے گا اور کوئی اُس کو روک نہیں سکے گا۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۷۳ تا ۷۶ ) اگر کہو کہ عربوں کے لئے یہی حکم تھا کہ جبراً مسلمان کئے جائیں، یہ خیال قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ چونکہ تمام عرب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ایذا پہنچایا تھا اور بہت سے صحابہ مردوں اور عورتوں کو قتل کر دیا تھا اور بقیہ السیف کو وطن سے نکال دیا تھا اس لئے وہ تمام لوگ جو مرتکب جرم قتل یا معین اس جرم کے تھے وہ سب خدا تعالیٰ کی نظر میں اپنی خونریزی کے عوض میں خونریزی کے لائق ہو چکے تھے ان کی نسبت بطور قصاص اصل حکم قتل کا تھا مگر ارحم الراحمین کی طرف سے یہ رعایت دی گئی کہ اگر کوئی ان میں سے مسلمان ہو جائے تو اُس کا گزشتہ جرم جس کی وجہ سے وہ قابل سزائے موت ہے بخش دیا جائے گا۔پس کہاں یہ صورت رحم اور کہاں جبر۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۷۴ حاشیہ) یعنی دین میں جبر نہیں چاہئے۔( مجموعہ اشتہارات، جلد اصفحه ۴۶۰ حاشیه)