تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 430
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۳۰ سورة البقرة لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی دین کو جبر سے شائع نہیں کرنا چاہیے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۱۹) جس کتاب میں یہ آیت اب تک موجود ہے کہ : لا إكراه في الدِّينِ یعنی دین کے معاملہ میں زبر دستی نہیں کرنی چاہئے۔کیا اس کی نسبت ہم ظن کر سکتے ہیں کہ وہ جہاد کی تعلیم دیتی ہے؟ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۲) جس کام کے لئے آپ لوگوں کے عقیدوں کے موافق مسیح ابن مریم آسمان سے آئے گا یعنی یہ کہ مہدی سے مل کر لوگوں کو جبر مسلمان کرنے کے لئے جنگ کرے گا یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو اسلام کو بدنام کرتا ہے۔قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ مذہب کے لئے جبر درست ہے؟ بلکہ اللہ تعالیٰ تو قرآن شریف میں فرماتا ہے : لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی دین میں جبر نہیں ہے پھر مسیح ابن مریم کو جبر کا اختیار کیوں کر دیا جائے گا یہاں تک کہ بجز اسلام یا قتل کے جزیہ بھی قبول نہ کرے گا یہ تعلیم قرآن شریف کی کس مقام اور کس سیپارہ اور کس سورہ میں ہے؟ سارا قرآن بار بار کہہ رہا ہے کہ دین میں جبر نہیں اور صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ جن لوگوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت لڑائیاں کی گئی تھیں وہ لڑائیاں دین کو جبراً شائع کرنے کے لئے نہیں تھیں بلکہ یا تو بطور سزا تھیں یعنی اُن لوگوں کو سزادینا منظور تھا جنہوں نے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کو قتل کر دیا اور بعض کو وطن سے نکال دیا تھا اور نہایت سخت ظلم کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ (الحج: ٢٠) یعنی ان مسلمانوں کو جن سے کفار جنگ کر رہے ہیں بسبب مظلوم ہونے کے مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے کہ جو ان کی مدد کرے۔اور یا وہ لڑائیاں ہیں جو بطور مدافعت تھیں یعنی جو لوگ اسلام کے نابود کرنے کے لئے پیش قدمی کرتے تھے یا اپنے ملک میں اسلام کو شائع ہونے سے جبرا روکتے تھے ان سے بطور حفاظت خود اختیاری یا ملک میں آزادی پیدا کرنے کے لئے لڑائی کی جاتی تھی بجز ان تین صورتوں کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مقدس خلیفوں نے کوئی لڑائی نہیں کی بلکہ اسلام نے غیر قوموں کے ظلم کی اس قدر برداشت کی ہے جو اس کی دوسری قوموں میں نظیر نہیں ملتی پھر یہ عیسی مسیح اور مہدی صاحب کیسے ہوں گے جو آتے ہی لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے یہاں تک کہ کسی اہل کتاب سے بھی جز یہ قبول نہیں کریں گے اور آیت : حقی يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَغِرُونَ ( القوية : ٢٩) کو بھی منسوخ کر دیں گے یہ دین اسلام کے کیسے حامی