تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 429

۴۲۹ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام رفاقت میں وہ صدق دکھلایا کہ کبھی انسان میں وہ صدق نہیں آسکتا جب تک ایمان سے اس کا دل اور سینہ منور نہ ہو۔غرض اسلام میں جبر کو دخل نہیں۔اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں ؛ (۱) دفاعی طور پر یعنی بطریق حفاظت خود اختیاری، (۲) بطور سزا یعنی خون کے عوض میں خون ، (۳) بطور آزادی قائم کرنے کے یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے۔پس جس حالت میں اسلام میں یہ ہدایت ہی نہیں کہ کسی شخص کو جبر اور قتل کی دھمکی سے دین میں داخل کیا جائے تو پھر کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرنا سراسر لغو اور بیہودہ ہے۔کیونکہ مکن نہیں کہ قرآنی تعلیم کے برخلاف کوئی ایسا انسان بھی دنیا میں آوے جو تلوار کے ساتھ لوگوں کو مسلمان کرے۔(مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۲،۱۱) قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوار مت اُٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں اسلام میں تلوار کا حکم ہوا کیونکہ وہ تلوار دین کو پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گئی تھی بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اور یا امن قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا۔ا (ستاره قیصریه، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۲۱٬۱۲۰) تمام سچے مسلمان جو دنیا میں گزرے کبھی ان کا یہ عقیدہ نہیں ہوا کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہئے بلکہ ہمیشہ اسلام اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے دُنیا میں پھیلا ہے۔پس جو لوگ مسلمان کہلا کر صرف یہی بات جانتے ہیں کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہیئے وہ اسلام کی ذاتی خوبیوں کے معترف نہیں ہیں اور ان کی کارروائی درندوں کی کارروائی سے مشابہ ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۶۷ حاشیه ) یہ جہالت اور سخت نادانی ہے کہ اس زمانہ کے نیم مثلا فی الفور کہ دیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبراً مسلمان کرنے کے لئے تلوار اُٹھائی تھی اور انہی شبہات میں ناسمجھ پادری گرفتار ہیں۔مگر اس سے زیادہ کوئی جھوٹی بات نہیں ہوگی کہ یہ جبر اور تعری کا الزام اُس دین پر لگایا جائے جس کی پہلی ہدایت یہی ہے که: لا إكراه في التانينِ یعنی دین میں جبر نہیں چاہیئے بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بزرگ صحابہ کی لڑائیاں یا تو اس لئے تھیں کہ کفار کے حملہ سے اپنے تئیں بچایا جائے اور یا اس لئے تھیں کہ امن قائم کیا جائے اور جولوگ تلوار سے دین کو روکنا چاہتے ہیں ان کو تلوار سے پیچھے ہٹایا جائے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۵۸)