تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 424
۴۲۴ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام معصوم ہونے میں کوئی حقیقی رشتہ نہیں اور ہر گز عقل سمجھ نہیں سکتی کہ عصمت کو شفاعت سے کوئی حقیقی تعلق ہے۔ہاں ! عقل اس بات کو خوب سمجھتی ہے کہ شفیع کے لئے یہ ضروری ہے کہ مذکورہ بالا دو قسم کے تعلق اس میں پائے جائیں اور عقل بلاتر در یہ حکم کرتی ہے کہ اگر کسی انسان میں یہ دو صفتیں موجود ہوں کہ ایک خدا سے تعلق شدید ہوا اور دوسری طرف مخلوق سے بھی محبت اور ہمدردی کا تعلق ہو تو بلا شبہ ایسا شخص ان لوگوں کے لئے جنہوں نے عمداً اُس سے تعلق نہیں توڑا، دلی جوش سے شفاعت کرے گا اور وہ شفاعت اس کی منظور کی جائے گی کیونکہ جس شخص کی فطرت کو یہ دو تعلق عطا کئے گئے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہی کہ وہ خدا کی محبت تامہ کی وجہ سے اس فیض کو کھینچے اور پھر مخلوق کی محبت تامہ کی وجہ سے وہ فیض ان تک پہنچا دے اور یہی وہ کیفیت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں شفاعت کہتے ہیں۔شخص شفیع کے لئے جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے ضروری ہے کہ خدا سے اس کو ایک ایسا گہرا تعلق ہو کہ گویا خدا اس کے دل میں اترا ہوا ہو اور اس کی تمام انسانیت مرکز بال بال میں لاہوتی تحلی پیدا ہوگئی ہو اور اس کی روح پانی کی طرح گداز ہو کر خدا کی طرف بہ نکلی ہو اور اس طرح پر الہی قرب کے انتہائی نقطہ پر جا پہنچی ہو۔اور اسی طرح شفیع کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس کے لئے وہ شفاعت کرنا چاہتا ہے اس کی ہمدردی میں اس کا دل اُڑا جاتا ہو ایسا کہ گویا عنقریب اس پر غشی طاری ہوگی اور گو یا شدت قلق سے اس کے اعضا اس سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں اور اس کے حواس منتشر ہیں اور اس کی ہمدردی نے اس کو اس مقام تک پہنچایا ہو کہ جو باپ سے بڑھ کر اور ماں سے بڑھ کر اور ہر ایک غمخوار سے بڑھ کر ہے پس جبکہ یہ دونوں حالتیں اس میں پیدا ہو جائیں گی تو وہ ایسا ہو جائے گا کہ گویا وہ ایک طرف سے لا ہوت کے مقام سے مفت ہے اور دوسری طرف ناسوت کے مقام سے جفت تب دونوں پلہ میز ان کے اس میں مساوی ہوں گے۔یعنی وہ مظہر لاہوت کامل بھی ہو گا اور مظہر ناسُوت کامل بھی اور بطور برزخ دونوں لاہوت شفع ناسوت نقطه برزخ مقام مشفع حالتوں میں واقع ہوگا۔اس طرح پر۔۔۔۔اسی مقام شفاعت کی طرف قرآن شریف میں اشارہ فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شفیع ہونے کی (1۔۔9: شان میں فرمایا ہے: دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ ادنى (النجم : ۱۰۰۹) یعنی یہ رسول خدا کی طرف چڑھا اور جہاں تک امکان میں ہے خدا سے نزدیک ہوا اور قرب کے تمام کمالات کو طے کیا اور لاہوتی مقام سے پورا حصہ لیا اور پھر نا سوت کی طرف کامل رجوع کیا یعنی عبودیت کے انتہائی نقطہ تک اپنے تئیں پہنچایا اور بشریت کے پاک لوازم یعنی بنی نوع کی ہمدردی اور محبت سے جو نا سوتی کمال کہلاتا ہے پورا حصہ لیا لہذا ایک