تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 425

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۵ سورة البقرة طرف خدا کی محبت میں اور دوسری طرف بنی نوع کی محبت میں کمال تام تک پہنچا۔پس چونکہ وہ کامل طور پر خدا سے قریب ہوا اور پھر کامل طور پر بنی نوع سے قریب ہوا اس لئے دونوں طرف کے مساوی قرب کی وجہ سے ایسا ہو گیا جیسا کہ دوقوسوں میں ایک خط ہوتا ہے لہذا وہ شرط جو شفاعت کے لئے ضروری ہے اس میں پائی گئی ا اور خدا نے اپنے کلام میں اس کے لئے گواہی دی کہ وہ اپنے بنی نوع میں اور اپنے خدا میں ایسے طور سے درمیان ہے جیسا کہ وتر دو قوسوں کے درمیان ہوتا ہے۔( عصمت انبیاء علیہم السلام، روحانی خزائن جلد ۱۸ اصلحه ۲۵۵ تا ۲۶۴) ضرورت شفاعت ممکن ہے کہ اس جگہ کوئی شخص یہ سوال بھی پیش کرے کہ انسان کو شفاعت کی کیوں ضرورت ہے اور کیوں جائز نہیں کہ ایک شخص براہ راست تو بہ اور استغفار کر کے خدا سے معافی حاصل کر لے؟ اس سوال کا جواب قانونِ قدرت خود دیتا ہے کیونکہ یہ بات مسلّم ہے اور کسی کو اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ انسان بلکہ تمام حیوانات کی نسل کا سلسلہ شفاعت پر ہی چل رہا ہے کیونکہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ شفاعت کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنی بجفت ہے پس اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ تمام برکات تناسل شفع سے ہی پیدا ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں۔ایک انسان کے اخلاق اور قوت اور صورت دوسرے انسان میں اسی ذریعہ سے آجاتے ہیں یعنی وہ ایک جوڑ کا ہی نتیجہ ہوتا ہے ایسا ہی ایک حیوان جو دوسرے سے پیدا ہوتا ہے مثلاً بکری، بیل، گدھا وغیرہ وہ تمام قومی جو ایک حیوان سے دوسرے حیوان میں منتقل ہوتے ہیں وہ بھی درحقیقت ایک جوڑ کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔پس یہی جوڑ جب ان معنوں سے لیا جاتا ہے کہ ایک ناقص ایک کامل سے روحانی تعلق پیدا کر کے اس کی روح سے اپنی کمزوری کا علاج پاتا ہے اور نفسانی جذبات سے محفوظ رہتا ہے تو اس جوڑ کا نام شفاعت ہے۔جیسا کہ چاند سورج کے مقابل ہو کر ایک قسم کا اتحاد اور جوڑ اس سے حاصل کرتا ہے تو معاً اس نور کو حاصل کر لیتا ہے جو آفتاب میں ہے اور چونکہ اس روحانی جوڑ کو جو پُر محبت دلوں کو انبیاء کے ساتھ حاصل ہوتا ہے اس جسمانی جوڑ سے ایک مناسبت ہے جو زید کو مثلاً اپنے باپ سے ہے اس لئے یہ روحانی فیضیاب بھی خدا کے نزدیک اولاد کہلاتی ہے اور اس تولد کو کامل طور پر حاصل کرنے والے وہی نقوش اور اخلاق اور برکات حاصل کر لیتے ہیں جو نبیوں میں موجود ہوتے ہیں پس در اصل یہی حقیقت شفاعت ہے اور جس طرح جسمانی شفع یعنی جوڑ کا یہ لازمہ ذاتی ہے کہ اولا د مناسب حال اس شخص کے ہوتی ہے جس سے یہ جوڑ کیا گیا ہے ایسا ہی روحانی شفع کا بھی خاصہ ہے۔غرض یہی حقیقت شفاعت ہے کہ خدا کا قانون قدرت جسمانی اور روحانی