تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 418

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۸ سورة البقرة اپنا اثر اس پر ڈالتا ہے اور یہی شفاعت ہے۔انسان کی دُعا اور توجہ کے ساتھ مصیبت کا رفع ہونا یا معصیت اور ذنوب کا کم ہونا یہ سب شفاعت کے نیچے ہے۔توجہ سب پر اثر کرتی ہے خواہ مامور کو اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کا نام اور ( پتا) بھی یاد ہو نہ ہو۔احکام جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۶) یہ ہرگز نہ سمجھنا چاہئے کہ شفاعت کوئی چیز نہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ شفاعت حق ہے اور اس پر یہ نص صریح ہے : صَلِّ عَلَيْهِمْ اِنَّ صَلوتَكَ سَكَن لَّهُمْ (القوبة : ١٠٣) - سَكن لَّهُمْ یہ شفاعت کا فلسفہ ہے یعنی جو گناہوں میں نفسانیت کا جوش ہے وہ ٹھنڈا پڑ جاوے شفاعت کا نتیجہ یہ بتایا ہے کہ گناہ کی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور نفسانی جوشوں اور جذبات میں ایک برودت آجاتی ہے۔جس سے گناہوں کا صدور بند ہو کر ان کے بالمقابل نیکیاں شروع ہو جاتی ہیں پس شفاعت کے مسئلہ نے اعمال کو بریکا رنہیں کیا بلکہ اعمال حسنہ کی تحریک کی ہے۔شفاعت کے مسئلہ کے فلسفہ کونہ سمجھ کر احمقوں نے اعتراض کیا ہے اور شفاعت اور کفارہ کو ایک قرار دیا حالانکہ یہ ایک نہیں ہو سکتے ہیں کفارہ اعمال حسنہ سے مستغنی کرتا ہے اور شفاعت اعمال حسنہ کی تحریک۔جو چیز اپنے اندر فلسفہ نہیں رکھتی ہے وہ بیچ ہے۔ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ اسلامی اصول اور عقائد اور اُس کی ہر تعلیم اپنے اندر ایک فلسفہ رکھتی ہے اور علمی پیرایہ اس کے ساتھ موجود ہے جو دوسرے مذاہب کے عقائد میں نہیں ملتا۔شفاعت اعمال حسنہ کی محرک کس طرح پر ہے؟ اس سوال کا جواب بھی قرآن شریف ہی سے ملتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ کفارہ کا رنگ اپنے اندر نہیں رکھتی جو عیسائی مانتے ہیں کیونکہ اس پر حصر نہیں کیا جس سے کا ہلی اور شستی پیدا ہوتی بلکہ فرمایا: إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ ( البقرة : ۱۸۷) یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں تجھ سے سوال کریں کہ وہ کہاں ہے؟ تو کہہ دے کہ میں قریب ہوں۔قریب والا تو سب کچھ کر سکتا ہے، ڈور والا کیا کرے گا ؟ اگر آگ لگی ہوئی ہو تو دور والے کو جب تک خبر پہنچے اُس وقت تک تو شائد وہ جل کر خاک سیاہ بھی ہو چکے۔اس لئے فرمایا کہ کہہ دو میں قریب ہوں۔پس یہ آیت بھی قبولیت دعا کا ایک راز بتاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت پر ایمان کامل پیدا ہو اور اُسے ہر وقت اپنے قریب یقین کیا جاوے اور ایمان ہو کہ وہ ہر پکار کوسنتا ہے۔بہت سی دُعاؤں کے رڈ ہونے کا یہ بھی ستر ہے کہ دُعا کرنے والا اپنی ضعیف الایمانی سے دُعا کو مستر د کرالیتا ہے اس لئے یہ