تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 417

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۷ سورة البقرة حقیقی اور سچی بات یہ ہے جو میں نے پہلے بھی بیان کی تھی کہ شفیع کے لئے ضروری ہے کہ اول خدا تعالیٰ سے تعلق کامل ہو تا کہ وہ خدا سے فیض کو حاصل کرے اور پھر مخلوق سے شدید تعلق ہوتا کہ وہ فیض اور خیر جو وہ خدا سے حاصل کرتا ہے مخلوق کو پہنچاوے جب تک یہ دونوں تعلق شدید نہ ہوں شفیع نہیں ہوسکتا۔پھر اسی مسئلہ پر تیسری بحث قابل غور یہ ہے کہ جب تک نمونے نہ دیکھے جائیں کوئی مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا اور ساری بخشیں فرضی ہیں۔مسیح کے نمونہ کو دیکھ لو کہ چند حواریوں کو بھی درست نہ کر سکے، ہمیشہ ان کوست اعتقاد کہتے رہے بلکہ بعض کو شیطان بھی کہا اور انجیل کی رو سے کوئی نمونہ کامل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔بالمقابل ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل نمونہ ہیں کہ کیسے روحانی اور جسمانی طور پر انہوں نے عذاب الیم سے چھوڑایا اور گناہ کی زندگی سے ان کو نکالا کہ عالم ہی پلٹ دیا، ایسا ہی حضرت موسیٰ کی شفاعت سے بھی فائدہ پہنچا۔عیسائی جو مسیح کو مثیل موسیٰ قرار دیتے ہیں تو یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ موسیٰ کی طرح انہوں نے گناہ سے قوم کو بچایا ہو بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح کے بعد قوم کی حالت بہت ہی بگڑ گئی۔اور اب بھی اگر کسی کو شک ہو تو لنڈن یا یورپ کے دوسرے شہروں میں جا کر دیکھ لے کہ آیا گناہ سے چھڑا دیا ہے یا پھنسا دیا ؟ ہے اور یوں کہنے کو تو ایک چوہڑا بھی کہ سکتا ہے کہ بالمیک نے چھوڑا یا مگر یہ نرے دعوے ہی دعوے ہیں جن کے ساتھ کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔پس عیسائیوں کا یہ کہنا کہ مسیح چھوڑانے کے لئے آیا تھا، ایک خیالی بات ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے بعد قوم کی حالت بہت بگڑ گئی اور روحانیت سے بالکل دُور جا پڑی۔ہاں! سچا شفیع اور کامل شفیع آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے قوم کو بت پرستی اور ہر قسم کے فسق و فجور کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے نکال کر اعلیٰ درجہ کی قوم بنادیا اور پھر اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں آپ کی پاکیزگی اور صداقت کے ثبوت کے لئے اللہ تعالیٰ نمونہ بھیج دیتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ / مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۵،۴) مامور من اللہ کی دُعاؤں کا کل جہان پر اثر ہوتا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا ایک بار یک قانون ہے جس کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا۔جن لوگوں نے شفیع کے مسئلہ سے انکار کیا ہے انہوں نے سخت غلطی کھائی ہے شفیع کو قانون قدرت چاہتا ہے۔اس کو ایک تعلق شدید خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے اور دوسر ا مخلوق سے مخلوق کی ہمدردی اس میں اس قدر ہوتی ہے کہ یوں کہنا چاہئے کہ اس کے قلب کی بناوٹ ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہمدردی کے لئے جلد متاثر ہو جاتا ہے۔اس لئے وہ خدا سے لیتا ہے اور اپنی عقد ہمت اور توجہ سے مخلوق کو پہنچاتا ہے اور