تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 416 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 416

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۶ سورة البقرة ہمدردی کو دور کر دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کو نہیں رکھا۔غرض کامل شفیع وہی ہو سکتا ہے جس میں یہ دونوں حصے کامل طور پر پائے جائیں۔چونکہ یہ ایک ضروری امر تھا کہ شفیع ان دونوں مقامات کا مظہر ہو۔اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے ہی اس سلسلہ کا ظل قائم رکھا۔یعنی آدم علیہ السلام کو جب پیدا کیا تو لاہوتی حصہ تو اس میں یوں رکھ دیا جب کہا: فَإِذَا سَوَيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَه سجدين ( الحجر :۳۰) اور نا سوتی حصہ یوں رکھا کہ حوا کو اُس سے پیدا کیا۔یعنی جب روح پھونکی تو ایک جوڑ آدم کا خدا تعالیٰ سے قائم ہوا اور جب حوا نکالی تو دوسرا جوڑ مخلوق کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ناسوتی ہو گیا۔پس جب تک یہ دونوں حصے کامل طور پر کامل انسان میں نہ پائے جاویں وہ شفیع نہیں ہو سکتا۔جیسے آدم کی پسلی سے جو انکلی اسی طرح پر کامل انسان کی پسلی سے مخلوق نکلتی ہے۔احکم جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۸ رفروی ۱۹۰۲ صفحه ۶،۵) تعجب ہے! کہ عیسائی لوگ شفاعت کے لئے عصمت کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں نری عصمت ،شفاعت کا موجب نہیں ہو سکتی بلکہ شفاعت تب ہوسکتی ہے جبکہ شفیع معصوم ہو اور پھر وہ ابن اللہ ہو اور پھر صلیب پر لٹکا یا جا کر ملعون ہو۔جب تک یہ تثلیث عیسائی مذہب کے عقیدہ کے موافق قائم نہ ہو شفیع نہیں ہوسکتا، پھر وہ عصمت عصمت ہی کیوں پکارتے ہیں؟ کیا اگر کوئی معصوم ان کے سامنے پیش کیا جاوے، یہ ثابت کر دیا جاوے، تو وہ مان لیں گے کہ وہ شفیع ہے؟ ہر گز نہیں ! بلکہ عیسائی عقیدہ کے موافق یہ ضروری ہے کہ وہ خدا بھی نہ ہو بلکہ ابن اللہ ہو اور وہ مصلوب ہو کر جب تک ملعون نہ ہولے ہرگز ہرگز وہ شفیع نہیں ہو سکتا۔پھر ایک اور بات قابل غور ہے کہ جبکہ یسوع خود خدا تھا اور اس لئے وہ علت العلل تھا اور اس نے کل جہان کے گناہ بھی اپنے ذمے لئے پھر وہ معصوم کیوں کر ہوا؟ اور گناہوں کا تذکرہ ہم چھوڑتے ہیں جو یہودی مؤرخوں اور فری تھنکروں (آزاد خیال) نے ان کی انجیل سے ثابت کئے ہیں لیکن جب اُس نے خود گناہ اُٹھا لئے اور بوجہ علت العلل ہونے کے سارے گناہوں کا کرانے والا وہی ٹھہرا تو پھر ا سے معصوم قرار دینا عجیب دانشمندی ہے۔پھر خدا کا نام معصوم نہیں کیونکہ معصوم وہ ہے جس کا کوئی دوسرا عاصم ہو خدا کا نام عاصم ہے اس لئے جب شفاعت کے لئے اہنیت کی ضرورت ہے اور اس کے لئے بھی مصلوبیت کی لعنت ضروری ہے تو یہ سارا تانا بانا ہی بنائے فاسد بر فاسد کا مصداق ہے۔