تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 404
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ولد سورة البقرة جو اس کی روح کے لئے حد رفع ٹھہرایا گیا ہے اور موت کے بعد وہ روح اُس آسمان میں جا ٹھہرتی ہے جو اس کے لئے حد رفع مقرر کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ حدیث جس میں عام طور پر موت کے بعد روحوں کے اُٹھائے جانے کا ذکر ہے اس بیان کی مؤید ہے۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۷۶،۲۷۵) وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ ۔ اس جگہ صاحب درجات رفیعہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں جن کو ظلی طور پر انتہائی درجہ کے کمالات جو کمالات الوہیت کے اخلال و آثار ہیں بخشے گئے اور وہ خلافت حقہ جس کے وجود کامل کے تحقق کے لئے سلسلہ بنی آدم کا قیام بلکہ ایجاد کل کائنات کا ہوا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے اپنے مرتبہ ء اتم و اکمل میں ظہور پذیر ہو کر آئینہ خدا نما ہوئے۔ سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۳۴، ۲۳۵ حاشیه ) اللہ تعالیٰ اس نبی کریم کی شان رفیع کے بارہ میں فرماتا ہے : وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَت ۔ پس اس رفع درجات سے وہی انتہائی درجہ کا ارتفاع مراد ہے جو ظاہری اور باطنی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اور یہ وجود باجود جو خیر مجسم ہے مقربین کے تین قسموں سے اعلیٰ واکمل ہے جو الوہیت کا مظہر اتم کہلاتا سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۵۲ حاشیه ) ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اولیاء اللہ کے بھی کئی درجات ہوتے ہیں اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ بعض بعض پر فضیلت رکھتے ہیں بلکہ بعض اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں کہ ادنی درجہ کے صلحاء ان کو شناخت نہیں کر سکتے اور اُن کے مقام عالی سے منکر رہتے ہیں اور یہ اُن کے لئے ابتلا اور ٹھوکر کا باعث ہو جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ربوبیت کی تجلیات الگ الگ ہوتی ہیں جو آخَصُّ الْعِبَادِ ہوتے ہیں وہ اعلیٰ درجہ کی تحلیلی سے مخصوص کئے جاتے ہیں دوسروں کو اس تحالی سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔ اگرچہ خدا ایک ہے اور واحد لاشریک ہے مگر پھر بھی مختلف تجلیات کے اعتبار سے ہر ایک کا جُدا جُدا ربّ ہے۔ یہ نہیں کہ رب بہت ہیں ، رب ایک ہی ہے جو سب کا رب ہے اور کثرت کا قائل کا فر ہے۔ مگر تعلقات کے مختلف مراتب کے لحاظ سے اور صفات الہیہ کے ظہور کی کمی بیشی کے لحاظ سے ہر ایک کا جُدا جدا رب کہنا پڑتا ہے جیسا کہ بہت سے آئینے اگر ایک چہرہ کے مقابل پر رکھے جائیں جن میں سے بعض آئینے اس قدر چھوٹے ہوں کہ جیسے آرسی کا شیشہ ہوتا ہے اور بعض اس سے بھی چھوٹے اور بعض اس قدر چھوٹے کہ گویا آرسی کے آئینہ سے پچاسواں سے پیجا سواں حصّہ ہیں اور بعض آرسی کے آئینہ سے کسی قدر بڑے ہیں اور بعض اس قدر بڑے ہیں کہ