تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 405
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۵ سورة البقرة اُن میں پورا چہرہ نظر آ سکتا ہے پس اس میں شک نہیں کہ اگر چہ چہرہ ایک ہی ہے لیکن جس قدر آئینہ چھوٹا ہوگا چہرہ بھی اس میں چھوٹا دکھائی دے گا۔یہاں تک کہ بعض نہایت چھوٹے آئینوں میں ایک نقطہ کی طرح چہرہ نظر آئے گا اور ہرگز پورا چہرہ نظر نہیں آئے گا جب تک پورا آئینہ نہ ہو پس اس میں کچھ شک نہیں کہ چہرہ تو ایک ہے اور یہ بات واقعی صحیح ہے لیکن جو بظاہر مختلف آئینوں میں نظر آتا ہے اُس کی نسبت یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ وہ باعتبار اس نمائش کے ایک چہرہ نہیں ہے بلکہ کئی چہرے ہیں۔اسی طرح ربوبیت الہیہ ہر ایک کے لئے ایک درجہ پر ظاہر نہیں ہوتی۔انسانی نفس تزکیہ کے بعد ایک آئینہ کا حکم رکھتا ہے جس میں ربوبیت الہیہ کا چہرہ منعکس ہوتا ہے مگر گو کسی کے لئے تزکیہ نفس حاصل ہو گیا ہو مگر فطرت کے لحاظ سے تمام نفوس انسانیہ ہے برابر نہیں ہیں کسی کا دائرہ استعداد بڑا ہے اور کسی کا چھوٹا۔جس طرح اجرام سماویہ چھوٹے بڑے ہیں۔پس جو چھوٹی استعداد کا نفس ہے گو اس کا تزکیہ بھی ہو گیا مگر چونکہ استعداد کی رُو سے اس نفس کا ظرف چھوٹا ہے اس لئے ربوبیت الہیہ اور تجلیات ربانیہ کا عکس بھی اس میں چھوٹا ہوگا۔پس اس لحاظ سے اگر چہ رب ایک ہے لیکن ظروف نفسانیہ میں منعکس ہونے کے وقت بہت سے رب نظر آئیں گے۔یہی بھید ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہی کہتے تھے کہ: سبحان ربی الاعلی سبحان ربی العظیم۔یعنی میرا رب سب سے بڑا اور بزرگ ہے پس اگر چہ رب تو ایک ہے مگر تجلیات عظیمہ اور ر بوبیتِ عالیہ کی وجہ سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رب سب سے اعلیٰ ہے۔پھر اس جگہ ایک اور نکتہ ہے کہ چونکہ مدارج قرب اور تعلق حضرت احدیت کے مختلف ہیں اس لئے ایک شخص با وجود خدا کا مقرب ہونے کے جب ایسے شخص سے مقابلہ کرتا ہے جو قرب اور محبت کے مقام میں اس سے بہت بڑھ کر ہے تو آخر نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص جو ادنی درجہ کا قرب الہی رکھتا ہے نہ صرف ہلاک ہوتا ہے بلکہ بے ایمان ہو کر مرتا ہے جیسا کہ موسیٰ کے مقابل پر بلعم باعور کا حال ہوا۔پہلے تو وہ مکالمہ مخاطبہ الہیہ سے مشرف تھا اور اُس کی دُعائیں قبول ہوتی تھیں اور تمام ملک میں ولی کہلاتا تھا اور صاحب کرامات تھا لیکن جب خواہ نخواہ موسیٰ کے ساتھ مقابلہ کر بیٹھا اور اپنی قدر کو شناخت نہ کیا تب ولایت اور قرب کے مقام سے گرایا گیا اور خدا نے کتے کے ساتھ اُس کو مثال دی۔(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۴۷ تا ۳۴۹) کروڑ ہا نیک بندوں کو الہام ہوتا رہا ہے مگر ان کا مرتبہ خدا کے نزدیک ایک درجہ کا نہیں بلکہ خدا کے پاک نبی جو پہلے درجہ پر کمال صفائی سے خدا کا الہام پانے والے ہیں وہ بھی مرتبہ میں برابر نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا