تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 400
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۰ سورة البقرة وَاِن طَلَقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَد فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُم إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ اَوْ يَعْفُوا الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَ اَنْ تَعُفُوا 609 اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمُ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ تراضی طرفین سے جو ہو اس پر کوئی حرف نہیں آتا اور شرعی مہر سے یہ مراد نہیں کہ نصوص یا احادیث میں کوئی اس کی حد مقرر کی گئی ہے بلکہ اس سے مراد اس وقت کے لوگوں کے مروجہ مہر سے ہوا کرتی ہے ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہوتی ہے اور محض نمود کے لئے لاکھ لاکھ روپے کا مہر ہوتا ہے صرف ڈراوے کے لئے یہ لکھا جایا کرتا ہے کہ مرد قابو میں رہے اور اس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہوتی ہے اور نہ خاوند کے دینے کی۔میرا مذ ہب یہ ہے کہ جب ایسی صورت میں تنازعہ آ پڑے تو جب تک اس کی نیت یہ ثابت نہ ہو کہ ہاں رضا و رغبت سے وہ اسی قدر مہر پر آمادہ تھا جس قدر کہ مقرر شدہ ہے تب تک مقرر شدہ نہ دلایا جاوے اور اس کی حیثیت اور رواج وغیرہ کو مد نظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جاوے کیونکہ بدنیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ قانون۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۲۳) سوال ہوا کہ جن عورتوں کا مہر مچھر کی دومن چربی ہو وہ کیسے ادا کیا جاوے؟ فرمایا: لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اس کا خیال مہر میں ضرور ہونا چاہئے خاوند کی حیثیت کو مد نظر رکھنا چاہئے۔اگر اس کی حیثیت ۱۰ روپے کی نہ ہو تو وہ ایک لاکھ کا مہر کیسے ادا کرے گا اور مچھروں کی چربی تو کوئی مبر ہی نہیں یہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں داخل ہے۔(البدر جلد نمبر ۱ مورخه ۱۹ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۶) سوال ہوا کہ ایک عورت اپنا مہر نہیں بخشتی۔فرمایا: یہ عورت کا حق ہے اُسے دینا چاہئے اول تو نکاح کے وقت ہی ادا کرے ورنہ بعد ازاں ادا کر دینا چاہئے پنجاب اور ہندوستان میں یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر اپنا مہر خاوند کو بخش دیتی ہیں یہ صرف رواج ہے جو مروت پر دلالت کرتا ہے۔البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۶) مَنْ ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۖ وَاللَّهُ ص يَقْبِضُ وَيَبْطُ وَالَيْهِ تُرْجَعُونَ ) اللہ تعالیٰ جو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی ہے کہ معاذ اللہ! اللہ تعالیٰ کو حاجت ہے اور وہ محتاج