تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 24

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴ سورة البقرة نہیں کر سکتا اور اس پر وہ حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے۔جس کا دل خراب ہے اور تقویٰ سے حصہ نہیں رکھتا اور پھر کہتا ہے کہ علوم دین اور حقائق اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں وہ جھوٹ بولتا ہے ہرگز ہرگز اسے دین کے حقائق اور معارف سے حصہ نہیں ملتا بلکہ دین کے لطائف اور نکات کے لئے متقی ہونا شرط ہے جیسا کہ یہ فاری شعر ہے عروس حضرت قرآن نقاب آنگاه بردارد که دار الملک معنے راکند خالی زہر غوغا جب تک یہ بات پیدا نہ ہو اور دار الملک معنے خالی نہ ہو وہ غوغا کیا ہے؟ یہی فسق و فجور دنیا پسندی ہے۔ہاں یہ خدا امر ہے کہ چور کی طرح کچھ کہلائے تو کہہ دے لیکن جو روح القدس سے بولتے ہیں وہ بحجر تقویٰ کے نہیں بولتے۔یہ خوب یا درکھو کہ تقویٰ تمام دینی علوم کی کنجی ہے انسان تقویٰ کے سوا ان کو نہیں سیکھ سکتا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا: الم - ذلِكَ الكِتبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یہ کتاب تقویٰ کرنے والوں کو ہدایت کرتی ہے اور وہ کون ہیں الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔یعنی ابھی وہ خدا نظر نہیں آتا اور پھر نماز کو کھڑی کرتے ہیں یعنی نماز میں ابھی پورا سرور اور ذوق پیدا نہیں ہوتا تاہم بے لطفی اور بے ذوقی اور وساوس میں ہی نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ تجھ پر یا تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اُس پر ایمان لاتے ہیں۔یہ تھی کے ابتدائی مدارج اور صفات ہیں جیسا کہ میں نے ایک مرتبہ بیان کیا تھا بظاہر یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ جب وہ خدا پر ایمان لاتے ہیں نماز پڑھتے ہیں خرچ کرتے ہیں اور ایسا ہی خدا کی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں پھر اس کے سوانئی ہدایت کیا ہوگی؟ یہ تو گویا تحصیل حاصل ہوئی ؟ يُنْفِقُونَ میں دونوں باتیں داخل ہیں یعنی دوسروں کو روٹی یا کپڑا یا مال دیتا ہے۔اور یا قومی خرچ کرتا ہے۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ عبادتیں اور یہ الفاظ اسی حد تک جو بیان کی گئی ہیں انسان کے کمال سلوک اور معرفت تامہ پر دلالت نہیں کرتے۔اگر ہدایت کا انتہائی نقطہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ہی تک ہو تو پھر معرفت کیا ہوئی ؟ اس لئے جو شخص قرآن مجید کی ہدایت پر کار بند ہوگا وہ معرفت کے اعلیٰ مقام تک پہنچے گا اور وہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ سے نکل کر مشاہدہ کی حالت تک ترقی کرے گا۔گو یا خدا تعالیٰ کے وجود پر عین الیقین کا مقام ملے گا۔اس طرح پر نماز کے متعلق ابتدائی حالت تو یہی ہوگی جو یہاں بیان کی کہ وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں یعنی