تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 23
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳ سورة البقرة ہیں۔ اگر اسلام میں یہ کمال اور خوبی نہ ہو تو پھر دوسرے مذاہب پر اسے کیا فخر اور امتیاز حاصل ہوگا۔ نری توحید سے تو نہیں ہو سکتا کیونکہ برہمو بھی تو ایک ہی خدا کو مانتا ہے وہ بھی صدقہ دیتا ہے خدا کو اپنے طور پر یاد بھی کرتا ہے اور یہی اخلاقی صفات اس میں پائی جاتی ہیں تو پھر ایک مسلمان میں اور اس برہمو میں کیا فرق ہوا؟ یہ امور تو نقل سے بھی ہو سکتے ہیں ۔ اس کا کیا جواب ہے؟ کچھ بھی نہیں بجز اس کے کہ اسلام کا روشن چہرہ ان امتیازی نشانوں کے ذریعہ دکھا یا جاوے جو خدا تعالیٰ کے مکالمہ کے ذریعہ ملتے ہیں۔ یقیناً سمجھو کہ اصل جو فضل آسمان سے آتا ہے اس کی کوئی چوری اور نقل نہیں کر سکتا اگر اسلام میں مکالمہ مخاطبہ اور تفضلات نہ ہوتے تو اسلام کچھ بھی چیز نہ ہوتا ! اس کا یہی تو فخر ہے کہ وہ ایک سچے مسلمان کو ان انعامات واکرام کا وارث بنا دیتا ہے اور وہ فی الحقیقت خدا نما مذہب ہے۔ اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دکھا دیتا ہے اور یہی غرض ہے اسلام کی کیونکہ اسی ایک ذریعہ سے انسان کی گناہ آلود زندگی پر موت وارد ہو کر اسے پاک صاف بنا دیتی ہے اور حقیقی نجات کا دروازہ اس پر کھلتا ہے کیونکہ جب تک خدا تعالیٰ پر کامل یقین نہ ہو گناہ سے کبھی نجات مل سکتی ہی نہیں۔ جیسے یہ ایک ظاہر امر ہے کہ جب انسان کو یقین ہو کہ فلاں جگہ سانپ ہے تو وہ ہرگز ہرگز اس جگہ داخل نہ ہوگا یا زہر کے کھانے سے مر جانے کا یقین زہر کے کھانے سے بچاتا ہے۔ پھر اگر خدا تعالیٰ پر پورا پورا یقین ہو کہ وہ سمیع اور بصیر ہے اور ہمارے افعال کی جزا د یتا ہے اور گناہ سے اسے سخت نفرت ہے تو اس یقین کو رکھ کر انسان کیسے جرات کر سکتا ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ اسلام کی روح اور اصل حقیقت تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف وہ انسان کو عطا کرتا ہے خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ آسمان سے انعام واکرام ملتے ہیں۔ جب انسان اس مرتبہ اور مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی نسبت کہا جاتا ہے أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے نجات پائی ہے۔ تقویٰی علوم دینیہ کی کلید ہے وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو کامل ترقی پا کر اپنے رب کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۶ء صفحه (۲) قرآن شریف نے شروع میں ہی فرمایا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ پس قرآن شریف کے سمجھنے اور اس کے موافق ہدایت پانے کے لئے تقویٰ ضروری اصل ہے ایسا ہی دوسری جگہ فرمایا : لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ٨٠) دوسرے علوم میں یہ شرط نہیں ۔ ریاضی، ہندسہ و ہئیت وغیرہ میں اس امر کی شرط نہیں کہ سیکھنے والا ضرور متقی اور پرہیز گار ہو بلکہ خواہ کیسا ہی فاسق وفاجر ہی ہو وہ بھی سیکھ سکتا ہے مگر علم دین میں خشک منطقی اور فلسفی ترقی