تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 379

۳۷۹ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام السَّمَاءِ وَأَمَّا قَتْلَ النَّاسِ بِآلاتِ هذهِ الدُّنْيَا آلات سے قتل کرنے کا تعلق ہے تو یہ کوئی عجیب فَلَيْسَ بِشَيْءٍ عَيْبٍ أَلَيْسَ الْمُلُوكُ يَفْعَلُونَ چیز نہیں۔کیا بادشاہ ایسے نہیں کیا کرتے؟ پس تو أَيْضًا ذلِك؛ فَتَحَسَّسُ حَرْبَةَ اللهِ، وَلَا تَكُنْ مِن اللہ کے حربہ کو تلاش کر اور انکار کرنے والوں میں سے نہ ہو۔(ترجمہ از مرتب ) الْمُنكِرِينَ حمامة البشری، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۳۱۸،۳۱۷) ہمارا اس بات پر ایمان چاہیئے کہ اس کے وعدے برحق ہیں اگر تمام اسباب اس کے منافی نظر آویں پھر بھی اس کا وعدہ سچا ہے اگر ایک آدمی بھی ہمارے ساتھ نہ ہو تو پھر بھی اس کا وعدہ سچا ہے۔وعدہ اس کا کمزور ہو سکتا ہے جس کی قدرت اور اختیار کمزور ہو، ہمارے خدا میں کوئی کمزوری نہیں ہے وہ بڑا قادر ہے اور اس کی حرکت جاری ہے ہماری جماعت کو چاہیئے کہ اسی ایمان کو ہاتھ میں رکھے۔بعض جماعت پر ابتلا بھی آتے ہیں اور تفرقہ پڑ جاتا ہے جیسے آنحضرت کے صحابہ مکہ مدینہ اور حبشہ کی طرف منتشر ہو گئے لیکن آخر خدا تعالیٰ نے ان کو پھر ایک جا جمع کر دیا۔ابتلا اس کی سنت ہے اور ایسے زلزلے آتے ہیں کہ مَتى نَصر الله (البقرۃ:۲۱۵) کہنا پڑتا ہے اور بعض کا خیال اس طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ ممکن ہے وہ وعدے غلط ہوں مگر انجام کار خدا کی بات سچی نکلتی ہے۔(البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۴) دو كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهُ لَكُمْ وَعَسَى أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَ هُوَ شَرٌّ تَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ج یعنی یہ ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بری سمجھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے اچھی ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو دوست رکھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے بڑی ہو اور خدا چیزوں کی اصل حقیقت کو جانتا ہے اور تم نہیں ( براہینِ احمد یہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۳۱ حاشیه در حاشیہ نمبر ۱۱) دُعا جب قبول ہونے والی ہوتی ہے تو اللہ اس کے لئے دل میں ایک سچا جوش اور اضطراب پیدا کر دیتا ہے اور بسا اوقات اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دُعا سکھاتا ہے اور الہامی طور پر اس کا پیرا یہ بتادیتا ہے۔جیسا کہ فرماتا جانتے۔ارو ہے : فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ حلمت (البقرۃ:۳)۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو قبول ہونے والی دُعائیں خود الہانا سکھا دیتا ہے۔بعض وقت ایسی دُعا میں ایسا حصہ بھی ہوتا ہے جس کو دُعا کرنے والا نا پسند کرتا ہے مگر وہ قبول ہو جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس آیت کے مصداق ہے۔