تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 373
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۳ سورة البقرة روح ہے جو بیان کی گئی۔جس کو سمجھنا ہو سمجھ لے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۲۱) بعض ایسے ہیں کہ اپنے نفسوں کو خدا کی راہ میں بیچ دیتے ہیں۔تا کسی طرح وہ راضی ہو۔پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۷۳) بعض مومن لوگوں میں سے وہ بھی ہیں کہ اپنی جانیں رضاء الہی کے عوض میں بیچ دیتے ہیں اور خدا الیسوں ہی پر مہربان ہے۔نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۴۰) اللہ تعالیٰ کے بندے جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں اُن کے ساتھ وہ رافت اور محبت کرتا ہے چنانچہ خود فرماتا ہے : وَاللهُ رَسُونُ بِالْعِبَاد۔یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے، اللہ تعالیٰ کی ہی راہ میں وقف کر دیتے ہیں۔اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں قربان کرنا، اپنے مال کو اس کی راہ میں صرف کرنا اس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔مگر جو لوگ دنیا کی املاک و جائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنا لیتے ہیں وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں مگر حقیقی مومن اور صادق مسلمان کا یہ کام نہیں ہے۔سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو ما دَامَ الْحَيَاتُ وقف کر دے۔تا کہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲۹ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۰ ء صفحه ۳) يَااَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السّلْمِ كَافَةَ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطَنِ إِنَّهُ (٢۔٩) لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ۔اے ایمان والو! خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو اور شیطانی راہوں کو اختیار مت کرو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔اس جگہ شیطان سے مراد وہی لوگ ہیں جو بدی کی تعلیم دیتے ہیں۔براتین احمدیہ حصہ پانیم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۱۶) هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَئِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَ إِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ یعنی اُس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا۔کفر اور شرک نے بہت غلبہ کیا اور وہ خاموش رہا اور ایک مخفی خزانہ کی طرح ہو گیا۔اب چونکہ شرک اور انسان پرستی کا غلبہ کمال تک پہنچ گیا اور اسلام اس کے پاؤں کے نیچے کچلا گیا اس لئے خدا فرماتا ہے کہ میں زمین پر نازل ہوں گا اور وہ قہری نشان دکھلاؤں گا کہ جب سے نسل آدم پیدا ہوئی ہے کبھی نہیں