تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 369

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۹ سورة البقرة وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراحب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں کیونکہ اس کے نصب العین دین ہوتا ہے اور دنیا، اس کا مال وجاہ دین کا خادم ہوتا ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو بلکہ حصول دنیا میں اصل غرض دین ہو اور ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیا جاوے کہ وہ دین کی خادم ہو۔جیسے انسان کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے واسطے سفر کے لئے سواری یا اور زادراہ کو ساتھ لیتا ہے تو اس کی اصل غرض منزل مقصود پر پہنچنا ہوتا ہے نہ خود سواری اور راستہ کی ضروریات۔اسی طرح پر انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ دُعا تعلیم فرمائی ہے کہ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے لیکن کس دنیا کو؟ حسنة الدنیا کو جو آخرت میں حسنات کی موجب ہو جاوے، اس دُعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آ جاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حسنات الاخرۃ کا خیال رکھنا چاہئے۔اور ساتھ ہی حسنة الدنیا کے لفظ میں اُن تمام بہترین ذرائع حصول دنیا کا ذکر آ گیا ہے جو کہ ایک مومن مسلمان کو حصول دنیا کے لئے اختیار کرنی چاہئیں دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو۔جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔نہ وہ طریق (جو) کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسانی کا موجب ہو، نہ ہم جنسوں میں کسی عار و شرم کا باعث۔ایسی دنیا بیشک حسنةالآخرة کا موجب ہوگی پس یاد رکھو کہ جو شخص خدا کے لئے زندگی وقف کر دیتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ وہ بے دست و پا ہو جاتا ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں ! بلکہ دین اور یہی وقف انسان کو ہوشیار اور چابکدست بنا دیتا ہے، سستی اور کسل اس کے پاس نہیں آتا۔حدیث میں عمار بن خزیمہ سے روایت ہے کے حضرت عمر نے میرے باپ کو فرمایا کہ تجھے کس چیز نے اپنی زمین میں درخت لگانے سے منع کیا تو میرے باپ نے جواب دیا کہ میں بڑھا ہوں کل مر جاؤں گا پس اُس کو حضرت عمر نے فرمایا کہ تجھ پر ضرور ہے کہ درخت لگاوے پھر میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ خود میرے باپ کے ساتھ مل کر ہماری زمین میں درخت لگاتے تھے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ عجز اور کسل سے پناہ مانگا کرتے تھے۔میں پھر کہتا ہوں کہ سست نہ بنو اللہ تعالیٰ حصول دنیا سے منع نہیں