تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 368

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۸ سورة البقرة پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر لیا جاوے چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے: فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكرِكُمْ آبَاءَكُم أوْ أَشَدَّ ذكرًا۔یعنی اللہ تعالی کو ایسا یا د کرو کہ جیسا تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ اور سخت درجہ کی محبت کے ساتھ یاد کرو۔اب یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تعلیم نہیں دی کہ تم خدا کو باپ کہا کرو بلکہ اس لئے یہ سکھایا ہے کہ نصاریٰ کی طرح دھو کہ نہ لگے اور خدا کو باپ کر کے پکارا نہ جائے اور اگر کوئی کہے کہ پھر باپ سے کم درجہ کی محبت ہوئی تو اس اعتراض کے رفع کرنے کے لئے او أشد ذكرا رکھ دیا اور اگر آؤ أَشَدَّ ذكرًا نہ ہوتا تو یہ اعتراض ہوسکتا تھا مگر اب اس نے اس کو حل کر دیا۔جو باپ کہتے ہیں وہ کیسے گرے کہ ایک عاجز کو خدا کہہ اُٹھے۔احکام جلد ۶ نمبر ۱۹ مورحه ۲۴ مئی ۱۹۰۲ صفحه ۵) حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ رایت رَبِّي عَلَى صُورَةِ أَبِي یعنی میں نے اپنے رب کو اپنے باپ کی شکل پر دیکھا۔میں نے بھی اپنے والد صاحب کی شکل پر اللہ تعالیٰ کو دیکھا ان کی شکل بڑی با رعب تھی انہوں نے ریاست کا زمانہ دیکھا ہوا تھا۔اس لئے بڑے بلند ہمت اور عالی حوصلہ تھے غرض میں نے دیکھا کہ وہ ایک عظیم الشان تخت پر بیٹھے ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ خدا تعالیٰ ہے۔اس میں ستر یہ ہوتا ہے کہ باپ چونکہ شفقت اور رحمت میں بہت بڑا ہوتا ہے اور قرب اور تعلق شدید رکھتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا باپ کی شکل میں نظر آنا اس کی عنایت تعلق اور شدت محبت کو ظاہر کرتا ہے اس لئے قرآن شریف میں بھی آیا ہے: كَذِكرِكُمْ آبَاءَ کُفر اور میرے الہامات میں یہ بھی ہے: انتَ مِنِی مَنْزِلَهِ أَوْلادِی یہ قرآن شریف کی اسی آیت کے مفہوم اور مصداق پر ہے۔(الحکم جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۲، صفحہ ۷) وجودی مذہب والوں نے کیا بنایا، انہوں نے کیا معلوم کیا، جو ہم کو معلوم نہ تھا؟ بنی نوع کو انہوں نے کیا فائدہ پہنچایا ؟ ان ساری باتوں کا جواب نفی میں دینا پڑے گا۔اگر کوئی ضد اور ہٹ سے کام نہ لے تو ذرا بتائے تو سہی کہ خدا تو محبت اور اطاعت کی راہ بتاتا ہے؟ چنانچہ خود قرآن شریف میں اس نے فرمایا ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ (البقرة:۱۶۲) اور فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكَرِكُمْ آبَاءَكُم پھر کیا دنیا میں کبھی یہ بھی ہوا ہے کہ بیٹا باپ کی محبت میں فنا ہو کر خود باپ بن جاوے۔باپ کی محبت میں فنا تو ہوسکتا ہے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ باپ ہی ہو جاوے۔یہ یادرکھنے کے قابل بات ہے کہ فنا نظری ایک ایسی شے ہے جو محبت سے ضرور پیدا ہوتی ہے لیکن ایسی فنا جو در حقیقت بہانہ فنا کا ہو اور ایک جدید وجود کے پیدا کرنے کا باعث بنے کہ میں ہی ہوں، یہ ٹھیک نہیں ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۳)