تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 367

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۷ سورة البقرة خدا کو ایسا یا دکرو! جیسا کہ اپنے باپوں کو بلکہ اس سے بہت زیادہ۔(نورالقرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۴۳۶) یعنی اللہ تعالیٰ کو یاد کرو جس طرح پر تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔اس جگہ دو رمز ہیں۔ایک تو ذکر اللہ کو ذکر آباء سے مشابہت دی ہے۔اس میں یہ ستر ہے کہ آباء کی محبت ذاتی اور فطرتی محبت ہوتی ہے۔دیکھو بچہ کو جب ماں مارتی ہے وہ اس وقت بھی ماں ماں ہی پکارتا ہے۔گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسان کو ایسی تعلیم دیتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے فطری محبت کا تعلق پیدا کرے۔اس محبت کے بعد اطاعت امر اللہ کی خود بخود پیدا ہوتی ہے۔یہی وہ اصلی مقام معرفت کا ہے جہاں انسان کو پہنچنا چاہئے۔یعنی اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے فطری اور ذاتی محبت پیدا ہو جاوے۔(لیکچرلدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۸۲) تم محبت سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ خدا کو یاد کرو! جیسا کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۷۲، ۴۷۳) (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۷) پس تم خدا کو یاد کرو! جیسا کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو پس اس جگہ خدا تعالیٰ کو باپ کے ساتھ تشبیہ دی اور استعارہ بھی صرف تشبیہ کی حد تک ہے۔ہر ایک ابن آدم اپنے اندر ایک حیض کی نا پا کی رکھتا ہے مگر وہ جو سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے وہی حیض اُس کا ایک پاک لڑکے کا جسم تیار کر دیتا ہے۔اسی بنا پر خدا میں فانی ہونے والے اطفال اللہ کہلاتے ہیں لیکن یہ نہیں کہ وہ خدا کے در حقیقت بیٹے ہیں کیونکہ یہ تو کلمہ کفر ہے اور خدا بیٹیوں سے پاک ہے یہ بلکہ اس لئے استعارہ کے رنگ میں وہ خدا کے بیٹے کہلاتے ہیں کہ وہ بچہ کی طرح دلی جوش سے خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں۔اسی مرتبہ کی طرف قرآن شریف میں اشارہ کر کے فرمایا گیا ہے : فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكرِكُمْ آبَاءَكُمْ أوْ أَشَدَّ ذكرًا یعنی خدا کو ایسی محبت اور دلی جوش سے یاد کرو جیسا کہ بچہ اپنے باپ کو یاد کرتا ہے۔اسی بنا پر ہر ایک قوم کی کتابوں میں آب یا پتا کے نام سے خدا کو پکارا گیا ہے۔اور خدا تعالیٰ کو استعارہ کے رنگ میں ماں سے بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یہ کہ جیسے ماں اپنے پیٹ میں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کے پیارے بندے خدا کی محبت کی گود میں پرورش پاتے ہیں اور ایک گندی فطرت سے ایک پاک جسم انہیں ملتا ہے۔سو اولیاء کو جو صوفی اطفال حق کہتے ہیں یہ صرف ایک استعارہ ہے ورنہ خدا اطفال سے پاک اور لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۸۲) خدا کے ساتھ محبت کرنے سے کیا مراد ہے؟ یہی کہ اپنے والدین، جو رو، اپنی اولاد، اپنے نفس غرض ہر چیز