تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 362
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۲ سورة البقرة استغفار بہت پڑھا کرو۔انسان کے واسطے غموں سے سبک ہونے کے واسطے یہ طریق ہے۔استغفار کلید ترقیات روحانی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۱۱) الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱ /جنوری ۱۹۰۱ ء صفحه ۱۱) استغفار بہت کرو۔اس سے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں، اللہ تعالی اولاد بھی دے دیتا ہے۔یاد رکھو! یقین بڑی چیز ہے جو شخص یقین میں کامل ہوتا ہے خدا تعالیٰ خود اس کی دستگیری کرتا ہے۔w الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱ /جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۱۱) جو لوگ قبل از نزول بلا دُعا کرتے ہیں اور استغفار کرتے اور صدقات دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن پر رحم کرتا ہے اور عذاب الہی سے اُن کو بچا لیتا ہے۔میری ان باتوں کو قصہ کے طور پر نہ سنو، میں نُضحاً للہ کہتا ہوں اپنے حالات پر غور کرو اور آپ بھی اور اپنے دوستوں کو بھی دُعا میں لگ جانے کے لئے کہو۔استغفار عذاب الہی اور مصائب شدیدہ کے لئے سپر کا کام دیتا ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا كَانَ اللهُ ليعيّ بَهُمْ وَاَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (الانفال ) اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ اس عذاب الہی سے تم محفوظ رہو تو استغفار کثرت سے پڑھو۔(الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ صفحه ۱) استغفار بہت پڑھا کرو۔انسان کی دوہی حالت ہیں یا تو وہ گناہ نہ کرے اور یا اللہ تعالی اس گناہ کے بد انجام سے بچا لے۔سو استغفار پڑھنے کے وقت دونوں معنوں کا لحاظ رکھنا چاہئے ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ سے گذشتہ گناہوں کی پردہ پوشی چاہے اور دوسرا یہ کہ خدا سے توفیق چاہے کہ آئندہ گناہوں سے بچالے۔مگر استغفار صرف زبان سے پورا نہیں ہوتا بلکہ دل چاہے۔نماز میں اپنی زبان میں بھی دُعا مانگو یہ ضروری ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۳) مرض دو قسم کے ہوتے ہیں ایک مرض مستوی اور ایک مرض مختلف۔مرض مستوی وہ ہوتا ہے جس کا درد وغیرہ محسوس نہیں ہوتا جیسے برص اور مرض مختلف وہ ہے جس کا درد وغیرہ محسوس ہوتا ہے، اس کے علاج کا تو انسان فکر کرتا ہے اور مرض مستوی کی چنداں پروا نہیں کرتا۔اسی طرح سے بعض گناہ تو محسوس ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ انسان اُن کو محسوس بھی نہیں کرتا اس لئے ضرورت ہے کہ ہر وقت انسان خدا تعالیٰ سے استغفار کرتار ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۱ صفحه ۶) ہم نے تحقیق کر لی ہے کہ استغفار کے یہ معنی ہیں کہ انسانی قومی جو کر توت کر رہے ہیں اُن کا افراط اور