تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 357

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۷ سورة البقرة اپنے دل کو خدا کی محبت میں محکم کر کے گناہوں کے ظہور کو جوعلیحدگی کی حالت میں جوش مارتے ہیں خدا تعالیٰ کے تعلق کے ساتھ روکنا اور خدا میں پیوست ہو کر اس سے مدد چاہنا یہ استغفار تو مقربوں کا ہے جو ایک طرفتہ العین خدا سے علیحدہ ہونا اپنی تباہی کا موجب جانتے ہیں اس لئے استغفار کرتے ہیں تا خدا اپنی محبت میں تھامے رکھے۔اور دوسری قسم استغفار کی یہ ہے کہ گناہ سے نکل کر خدا کی طرف بھا گنا اور کوشش کرنا کہ جیسے درخت زمین میں لگ جاتا ہے ایسا ہی دل خدا کی محبت کا اسیر ہو جائے تا پاک نشو و نما پا کر گناہ کی خشکی اور زوال سے بچ جائے اور ان دونوں صورتوں کا نام استغفار رکھا گیا۔کیونکہ غفر جس سے استغفار نکلا ہے ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔گویا استغفار سے یہ مطلب ہے کہ خدا اس شخص کے گناہ جو اس کی محبت میں اپنے تئیں قائم کرتا ہے دبائے رکھے اور بشریت کی جڑیں ننگی نہ ہونے دے بلکہ الوہیت کی چادر میں لے کر اپنی متر وستیت میں سے حصہ دے یا اگر کوئی جڑا گناہ کے ظہور سے ننگی ہو گئی ہو پھر اس کو ڈھانک دے اور اس کی برہنگی کے بداثر سے بچائے۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۴۶، ۳۴۷) جب انسان کے اندر محبت کا چشمہ جوش مارتا ہے تو وہ محبت طبعاً یہ تقاضا کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔پس محبت کی کثرت کی وجہ سے استغفار کی بھی کثرت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا سے کامل طور پر پیار کرنے والے ہر دم اور ہر لحظہ استغفار کو اپنا اور دور کھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر معصوم کی یہی نشانی ہے کہ وہ سب سے زیادہ استغفار میں مشغول رہے۔اور استغفار کے حقیقی معنے یہ ہیں کہ ہر ایک لغزش اور قصور جو بوجہ ضعف بشریت انسان سے صادر ہو سکتی ہے اس امکانی کمزوری کو دور کرنے کے لئے خدا سے مدد مانگی جائے تا خدا کے فضل سے وہ کمزوری ظہور میں نہ آوے اور مستور ومخفی رہے۔پھر بعد اس کے استغفار کے معنے عام لوگوں کے لئے وسیع کئے گئے اور یہ امر بھی استغفار میں داخل ہوا کہ جو کچھ لغزش اور قصور صادر ہو چکا خدا تعالیٰ اس کے بدنتائج اور زہریلی تاثیروں سے دنیا اور آخرت میں محفوظ رکھے۔پس نجات حقیقی کا سر چشمہ محبت ذاتی خدائے عزوجل کی ہے جو عجز و نیاز اور دائمی استغفار کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔چشمه مسیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۸۰،۳۷۹) روحانی سرسبزی کے محفوظ اور سلامت رہنے کے لئے یا اس سرسبزی کی ترقیات کی غرض سے حقیقی زندگی کے چشمہ سے سلامتی کا پانی مانگنا بھی وہ امر ہے جس کو قرآن کریم دوسرے لفظوں میں استغفار کے نام سے (نور القرآن، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۵۷) موسوم کرتا ہے۔