تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 342
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۴۲ سورة البقرة تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور کوئی اس صفت کا موصوف نہیں۔قبر سے کسی آواز کی اُمید مت رکھو بر خلاف اس کے اگر اللہ تعالیٰ کو اخلاص اور ایمان کے ساتھ دن میں دس مرتبہ بھی پکارو تو میں یقین رکھتا ہوں اور میرا اپنا تجربہ ہے کہ وہ دس دفعہ ہی آواز سنتا اور دس ہی دفعہ جواب دیتا ہے لیکن یہ شرط ہے کہ پکارے اس طرح پر جو پکارنے کا حق ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۵ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۰۴ صفحه ۲) دُعاؤں کی قبولیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرے اگر بدیوں سے نہیں بچ سکتا اور خدا کی حدود کو توڑتا ہے تو دُعاؤں میں کوئی اثر نہیں رہتا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹ مورخه ۱۰ رجون ۱۹۰۴ ء صفحه ۱) دُعا میں جس قدر بیہودگی ہوتی ہے اُسی قدر اثر کم ہوتا ہے۔یعنی اُس کی استجابت ضروری نہیں سمجھی جاتی۔مثلاً ایک شخص ہے کہ اس کا گزارہ ایک دور و پہیہ روزانہ میں بخوبی چل سکتا ہے لیکن وہ پچاس روپیہ روزانہ طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا سوال بیہودہ ہو گا۔یہ ضروری امر ہے کہ ضرورت حقہ اللہ تعالیٰ کے آگے پیش کی جاوے۔(البدر جلد ۳ نمبر ۲۹ مورخه یکم اگست ۱۹۰۴ صفحه ۳) خدا تعالیٰ ایک تعلق چاہتا ہے اور اس کے حضور میں دُعا کرنے کے لئے تعلق کی ضرورت ہے۔بغیر تعلق کے دُعا نہیں ہوسکتی۔پہلے بزرگوں کی بھی اسی قسم کی باتیں چلی آتی ہیں کہ جن سے دُعا کرنے والوں کو دُعا کرانے سے پہلے تعلق ثابت کرنے کی تاکید کی۔خواہ مخواہ بازار میں چلتے ہوئے کسی بے تعلق کو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ تو میرا دوست ہے اور نہ ہی اس کے لئے درد دل ہی ہوتا ہے اور نہ ہی جوش دُعا پیدا ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ سے تعلق اس طرح نہیں ہوسکتا کہ انسان غفلت کاریوں میں مبتلا بھی رہے اور صرف منہ سے دم بھرتا رہے کہ میں نے خدا سے تعلق پیدا کر لیا ہے۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے ایک محویت کی ضرورت ہے۔ہم بار بارا اپنی جماعت کو اس بات پر قائم ہونے کے لئے کہتے ہیں کیونکہ جب تک دنیا کی طرف سے انقطاع اور اس کی محبت دلوں سے ٹھنڈی ہوکر اللہ تعالیٰ کے لئے فطرتوں میں طبعی جوش اور محویت پیدا نہیں ہوتی ، اس وقت تک ثبات میسر نہیں آ سکتا۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۴ صفحه ۳) دعاؤں میں جو رو بخدا ہو کر توجہ کی جاوے تو پھر ان میں خارق عادت اثر ہوتا ہے۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ دُعاؤں میں قبولیت خدا تعالی ہی کی طرف سے آتی ہے اور دعاؤں کے لئے بھی ایک وقت