تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 341

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لیتے تھے۔۔۔۔۳۴۱ سورة البقرة اسی طرح پر قبولیت کی ارض مقدس ان مولویوں کے نصیب معلوم نہیں ہوتی جو آئے دن مخالفت اور شرارت میں بڑھتے جاتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ ان کو کیا کہا گیا تھا کیا تعلیم ملی تھی اور اب انہوں نے اس پر کس حد تک عمل کیا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه (۲۰۱) بہت سے لوگ ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں اور اپنے آپ کو بری خیال کر کے کہتے ہیں کہ ہم نے تو نماز بھی پڑھی اور دُعا بھی کی ہے مگر قبول نہیں ہوتی یہ ان لوگوں کا اپنا قصور ہوتا ہے نماز اور دُعا جب تک انسان غفلت اور کسل سے خالی نہ ہو تو وہ قبولیت کے قابل نہیں ہوا کرتی۔اگر انسان ایک ایسا کھانا کھائے جو کہ بظاہر تو میٹھا ہے مگر اس کے اندر زہر ملی ہوئی ہے تو مٹھاس سے وہ زہر معلوم تو نہ ہو گا مگر پیشتر اس کے کہ مٹھاس اپنا اثر کرے زہر پہلے ہی اثر کر کے کام تمام کر دے گا۔یہی وجہ ہے کہ غفلت سے بھری ہوئی دُعائیں قبول نہیں ہو تیں کیونکہ غفلت اپنا اثر پہلے کر جاتی ہے۔یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا بالکل مطیع ہو اور پھر اس کی دُعا قبول نہ ہو ہاں یہ ضروری ہے کہ اس کے مقررہ شرائط کو کامل طور پر ادا کرائے۔( البدرجلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۰۹،۱۰۸) اس میں شک نہیں کہ دُعاؤں کی قبولیت پر ہمارا ایمان ہے اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے قبول کرنے کا وعدہ بھی فرمایا ہے مگر دُعاؤں کے اثر اور قبولیت کو توجہ کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے اور پھر حقوق کے لحاظ سے دُعا کے لئے جوش پیدا ہوتا ہے۔۔۔۔۔دعا کرانے والے کے لئے یہ بھی ضرور ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرے اور اللہ تعالیٰ سے صلح کرے اپنے گناہوں سے تو بہ کرے پس جہاں تک ممکن ہو تم اپنے آپ کو درست کرو اور یہ یقینا سمجھ لو کہ انسان کا پرستار کبھی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔الحکم جلدے نمبر ۳۷ مورخہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۲) سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ جس سے دعا کرتا ہے اس پر کامل ایمان ہو اُس کو موجود سمیع، بصیر، خبیر، علیم، متصرف ، قادر سمجھے اور اُس کی ہستی پر ایمان رکھے کہ وہ دُعاؤں کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے مگر کیا کروں؟ کس کو سناؤں، اب اسلام میں مشکلات ہی اور آپڑی ہیں کہ جو محبت خدا تعالیٰ سے کرنی چاہئے وہ دوسروں سے کرتے ہیں اور خدا کا رتبہ انسانوں اور مردوں کو دیتے ہیں۔حاجت روا اور مشکل گشا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک تھی مگر اب جس قبر کو دیکھو وہ حاجت روا ٹھہرائی گئی ہے۔۔۔۔۔حاجت روا اور مشکل گشا