تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 340
۳۴۰ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اب یہ بات کیسی صفائی کے ساتھ سمجھ میں آتی ہے کہ روح اور جسم کا تعلق جب کہ ابدی ہے پھر کیوں کسی ایک کو بیکار قرار دیا جاوے۔دُعا کے لئے بھی یہی قانون ہے کہ جسم تکالیف اٹھائے اور روح گداز ہو۔اور پھر صبر اور استقلال سے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لا کر حسنِ ظن سے کام لیا جاوے۔الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۲) دُعا اور اس کی قبولیت کے زمانہ کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلا پر ابتلا آتے ہیں اور ایسے ایسے اجتلا بھی آجاتے ہیں جو کمر توڑ دیتے ہیں مگر مستقل مزاج سعید الفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعد نصرت آتی ہے۔ان ابتلاؤں کے آنے میں ایک سر یہ بھی ہوتا ہے کہ دُعا کے لئے جوش بڑھتا ہے کیونکہ جس جس قدر اضطرار اور اضطراب بڑھتا جاوے گا اسی قدر روح میں گدازش ہوتی جائے گی اور یہ دُعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہیں۔پس کبھی گھبرانا نہیں چاہئے اور بے صبری اور بیقراری سے اپنے اللہ پر بدظن نہیں ہونا چاہئے یہ کبھی بھی خیال کرنا نہیں چاہئے کہ میری دُعا قبول نہ ہوگی یا نہیں ہوتی۔ایسا ہم اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے انکار ہو جاتا ہے کہ وہ دُعائیں قبول فرمانے والا ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک امر کے لئے دُعا کرتا ہے مگر وہ دُعا اُس کی اپنی نا واقعی اور نادانی کا نتیجہ ہوتی ہے۔یعنی ایسا امر خدا سے چاہتا ہے جو اس کے لئے کسی صورت سے مفید اور نافع نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دُعا کو تو رڈ نہیں کرتا۔لیکن کسی اور صورت میں پورا کر دیتا ہے مثلاً ایک زمیندار جس کو ہل چلانے کے لئے بیل کی ضرورت ہے وہ بادشاہ سے جا کر ایک اونٹ کا سوال کرے اور بادشاہ جانتا ہے کہ اس کو دراصل بیل دینا مفید ہوگا اور وہ حکم دے دے کہ اس کو ایک بیل دے دو، وہ زمیندار اپنی بے وقوفی سے یہ کہہ دے کہ میری درخواست منظور نہیں ہوئی تو یہ اس کی حماقت اور نادانی ہے لیکن اگر وہ غور کرے تو اُس کے لئے یہی بہتر تھا۔اس طرح پر اگر ایک بچہ آگ کے سرخ انگارے کو دیکھ کر ماں سے مانگے تو کیا مہربان اور شفیق ماں یہ پسند کرے گی کہ اس کو آگ کے انگارے دے دے؟ غرض بعض اوقات دُعا کی قبولیت کے متعلق ایسے امور بھی پیش آتے ہیں۔جو لوگ بے صبری اور بدظنی سے کام لیتے ہیں وہ اپنی دُعا کوردکرا لیتے ہیں۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کی قبولیت کے زمانہ میں اور بھی درازی ہو جاتی ہے بنی اسرائیل اسی وجہ سے چالیس برس تک ارضِ مقدس میں داخل ہونے سے محروم ہو گئے کہ ذرا ذراسی بات پر شوخیوں سے کام