تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 339
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۹ سورة البقرة الحکم جلدے نمبر ۸ مؤرخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۲،۱) سے عرب میں ایک نبی ہو۔پھر کیا وہ اُسی وقت قبول ہو گئی ابراہیم کے بعد ایک عرصہ دراز تک کسی کو خیال بھی نہیں آیا کہ اس دُعا کا کیا اثر ہوا۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی صورت میں وہ دُعا پوری ہوئی اور پھر کس شان کے ساتھ پوری ہوئی۔شفاعت اعمال حسنہ کی محرک کس طرح پر ہے؟ اس سوال کا جواب بھی قرآن شریف ہی سے ملتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ کفارہ کا رنگ اپنے اندر نہیں رکھتی جو عیسائی مانتے ہیں کیونکہ اس پر حصر نہیں کیا جس سے کا بلی اور سستی پیدا ہوتی بلکہ فرمایا: إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں تجھ سے سوال کریں کہ وہ کہاں ہے تو کہہ دے کہ میں قریب ہوں۔قریب والا تو سب کچھ کر سکتا ہے دور والا کیا کرے گا؟ اگر آگ لگی ہوئی ہو تو دور والے کو جب تک خبر پہنچے اس وقت تک تو شاید وہ جل کر خاک سیاہ بھی ہو چکے۔اس لئے فرمایا کہ کہہ دو کہ میں قریب ہوں۔پس یہ آیت بھی قبولیت دعا کا ایک راز بتاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت پر ایمان کامل پیدا ہو۔اور اسے ہر وقت اپنے قریب یقین کیا جاوے اور ایمان ہو کہ وہ ہر پکار کو سنتا ہے۔بہت سی دُعاؤں کے رڈ ہونے کا یہ بھی تر ہے کہ دُعا کرنے والا اپنی ضعیف الایمانی سے دُعا کو مسترد کر الیتا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ دُعا کو قبول ہونے کے لائق بنا یا جاوے کیونکہ اگر وہ دُعا خدا تعالیٰ کی شرائط کے نیچے نہیں ہے تو پھر اس کو خواہ سارے نبی بھی مل کر کریں تو قبول نہ ہوگی اور کوئی فائدہ اور نتیجہ اس پر مترتب نہیں ہو سکے گا۔اب یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا صَلِ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنْ لَهُمْ (القوبة : ۱۰۳)۔تیری صلوۃ سے ان کو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور جوش و جذبات کی آگ سرد ہو جاتی ہے دوسری طرف فَلْيَسْتَجِيبُوانی کا بھی حکم فرمایا۔ان دونوں آیتوں کے ملانے سے دُعا کرنے اور کرانے والے کے تعلقات پھر ان تعلقات سے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں اُن کا بھی پتہ لگتا ہے کیونکہ صرف اسی بات پر منحصر نہیں کر دیا کہ آنحضرت کی شفاعت اور دُعا ہی کافی ہے اور خود کچھ نہ کیا جاوے اور نہ یہی فلاح کا باعث ہو سکتا ہے کہ آنحضرت کی شفاعت اور دُعا کی ضرورت ہی نہ سمجھی جاوے۔الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ ؍ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۳) دنیا میں کبھی کوئی شخص کامیاب نہیں ہوا جو جسم اور روح دونوں سے کام نہ لے۔اگر روح کوئی چیز نہیں تو ایک مردہ جسم سے کوئی کام کیوں نہیں ہو سکتا ؟ کیا اس کے سارے اعضا اور قومی موجود نہیں ہوتے؟