تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 330
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٣٠ سورة البقرة تب تک یہ تمام شرائط جمع نہیں ہوتیں اور ہمتیں پوری تو مجہ سے قاصر رہتی ہیں۔(بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۳ ، ۱۴) سرے سے قبولیت دعا سے انکار کرنا تو خلاف تجارب صحیحہ و عقل و نقل ہے۔ہاں دُعاؤں کی قبولیت کے لئے اُس رُوحانی حالت کی ضرورت ہے جس میں انسان نفسانی جذبات اور میل غیر اللہ کا چولہ اُتار کر اور بالکل روح ہو کر خدا تعالیٰ سے جاملتا ہے۔ایسا شخص مظہر العجائب ہوتا ہے اور اس کی محبت کی موجیں خدا کی محبت کی موجوں سے یوں ایک ہو جاتی ہیں جیسا کہ دو شفاف پانی، دو متقارب چشموں سے جوش مار کر آپس میں مل کر بہنا شروع کر دیتے ہیں ایسا آدمی گویا خدا کی شکل دیکھنے کے لئے ایک آئینہ ہوتا ہے اور غیب الغیب خدا کا اس کے عجائب کاموں سے پتہ ملتا ہے۔اس کی دُعائیں اس کثرت سے منظور ہوتی ہیں کہ گویا دنیا کو پوشیدہ خدا دکھا دیتا ہے۔تریاق القلوب ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۷۰،۴۶۹) جب تو دُعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دُعا منظور ہوگی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں اور ہماری گواہی رؤیت سے ہے نہ بطور قصہ کے۔اُس شخص کی دُعا کیوں کر منظور ہو اور خود کیوں کر اس کو بڑی مشکلات کے وقت جو اُس کے نزد یک قانون قدرت کے مخالف ہیں دُعا کرنے کا حوصلہ پڑے جو خدا کو ہر ایک چیز پر قادر نہیں سمجھتا۔(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱) یہ ایک سچا اور یقینی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دُعاؤں کو سنتا ہے اور اُن کو قبولیت کا شرف بخشا ہے۔مگر ہر رطب و یابس کو نہیں۔کیونکہ جوش نفس کی وجہ سے انسان انجام اور مال کو نہیں دیکھتا اور دُعا کرتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ جو حقیقی بہی خواہ اور مال بین ہے۔اُن مضرتوں اور بدنتائج کو ملحوظ رکھ کر جو اُس دُعا کے تحت میں بصورت قبول داعی کو پہنچ سکتے ہیں اُسے رد کر دیتا ہے۔اور یہ رڈ دُعا ہی اُس کے لئے قبول دُعا ہوتا ہے۔پس ایسی دُعائیں جن میں انسان حوادث اور صدمات سے محفوظ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا ہے مگر مضر دُعاؤں کو بصورت رو قبول فرمالیتا ہے۔۔۔۔یہ بات بھی بحضور دل من لینی چاہئے کہ قبول دُعا کے لئے بھی چند شرائط ہوتی ہیں ان میں سے بعض تو دُعا کرنے والے کے متعلق ہوتی ہیں اور بعض دعا کرانے والے کے متعلق۔دعا کرانے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کو مد نظر رکھے اور اُس کے غنا ذاتی سے ہر وقت ڈرتا رہے اور صلح کاری اور خدا پرستی اپنا شعار بنالے۔تقومی اور راستبازی سے