تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 329
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۹ سورة البقرة ہوں کہ دُعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے۔بلکہ اسباب طبعیہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التا ثیر نہیں جیسی کہ دُعا ہے۔اور اگر یہ شبہ ہو کہ بعض دُعا ئیں خطا جاتی ہیں اور اُن کا کچھ اثر معلوم نہیں ہوتا تو میں کہتا ہوں کہ یہی حال دواؤں کا بھی ہے۔کیا دواؤں نے موت کا دروازہ بند کر دیا ہے؟ یا اُن کا خطا جانا غیر ممکن ہے؟ مگر کیا با وجود اس بات کے کوئی اُن کی تاثیر سے انکار کر سکتا ہے؟ یہ سچ ہے کہ ہر ایک امر پر تقدیر محیط ہورہی ہے۔مگر تقدیر نے علوم کو ضائع اور بے حرمت نہیں کیا اور نہ اسباب کو بے اعتبار کر کے دکھلایا۔بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ جسمانی اور روحانی اسباب بھی تقدیر سے باہر نہیں ہیں۔مثلاً اگر ایک بیمار کی تقدیر نیک ہو تو اسباب علاج پورے طور پر میسر آ جاتے ہیں اور جسم کی حالت بھی ایسے درجہ پر ہوتی ہے کہ وہ ان سے نفع اٹھانے کے لئے مستعد ہوتا ہے۔تب دوا نشانہ کی طرح جا کر اثر کرتی ہے۔یہی قاعدہ دعا کا بھی ہے۔یعنی دُعا کے لئے بھی تمام اسباب و شرائط قبولیت اُسی جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں ارادہ الہی اُس کے قبول کرنے کا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے نظام جسمانی اور روحانی کو ایک ہی سلسلہ مؤثرات اور متأثرات میں باندھ رکھا ہے۔بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۹ تا ۱۲ ) دُعا کرنے میں صرف تضرع کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ اور طہارت اور راست گوئی اور کامل یقین اور کامل محبت اور کامل توجہ اور یہ کہ جو شخص اپنے لئے دُعا کرتا ہے یا جس کے لئے دُعا کی گئی ہے اُس کی دنیا اور آخرت کے لئے اس بات کا حاصل ہونا خلاف مصلحت الہی بھی نہ ہو۔کیونکہ بسا اوقات دُعا میں اور شرائط تو سب جمع ہو جاتے ہیں مگر جس چیز کو مانگا گیا ہے وہ عند اللہ سائل کے لئے خلاف مصلحت الہی ہوتی ہے۔اور اس کے پورا کرنے میں خیر نہیں ہوتی۔مثلاً اگر کسی ماں کا پیارا بچہ بہت الحاح اور رونے سے یہ چاہے کہ وہ آگ کا ٹکڑا یا سانپ کا بچہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دے۔یا ایک زہر جو بظا ہر خوبصورت معلوم ہوتی ہے اس کو کھلا دے تو یہ سوال اس بچہ کا ہرگز اُس کی ماں پورا نہیں کرے گی۔اور اگر پورا کر د یوے اور اتفاقاً بچہ کی جان بچ جاوے لیکن کوئی عضو اس کا بے کار ہو جاوے تو بلوغ کے بعد وہ بچہ اپنی اس احمق والدہ کا سخت شا کی ہوگا۔اور بجز اسکے اور بھی کئی شرائط ہیں کہ جب تک وہ تمام جمع نہ ہوں اُس وقت تک دُعا کو دُعا نہیں کہہ سکتے۔اور جب تک کسی دُعا میں پوری روحانیت داخل نہ ہو اور جس کے لئے دُعا کی گئی ہے اور جو دُعا کرتا ہے ان میں استعداد قریبہ پیدا نہ ہو تب تک توقع اثر دُعا امید موہوم ہے۔اور جب تک ارادہ الہی قبولیت دعا کے متعلق نہیں ہوتا