تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 324

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۲۴ سورة البقرة الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹ ،۲۰ مورخہ ۱۷،۱۰ جون ۱۹۰۴ صفحه ۶) قطعا تلخ ہو جاتی ہے۔اسلام سے سچی مراد یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع اپنی رضا کرلے۔مگر سچ یہ ہے کہ یہ مقام انسان کی اپنی قوت سے نہیں مل سکتا۔ہاں اس میں کلام نہیں کہ انسان کا فرض ہے کہ وہ مجاہدات کرے لیکن اس مقام کے حصول کا اصل اور سچا ذریعہ دعا ہے انسان کمزور ہے جب تک دُعا سے قوت اور تائید نہیں پاتا اس دشوار گذار منزل کو طے نہیں کر سکتا۔خود اللہ تعالیٰ انسان کی کمزوری اور اس کے ضعف حال کے متعلق ارشاد فرماتا ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء :۲۹) یعنی انسان ضعیف اور کمزور بنایا گیا ہے۔پھر باوجود اس کی کمزوری کے اپنی ہی طاقت سے ایسے عالی درجہ اور ارفع مقام کے حاصل کرنے کا دعوی کرنا سراسر خام خیالی ہے۔اس کے لئے دُعا کی بہت بڑی ضرورت ہے دُعا ایک زبردست طاقت ہے جس سے بڑے بڑے مشکل مقام حل ہو جاتے ہیں۔اور دشوار گزار منزلوں کو انسان بڑی آسانی سے طے کر لیتا ہے۔کیونکہ دُعا اس فیض اور قوت کے جذب کرنے والی نالی ہے جو اللہ تعالیٰ سے آتا ہے۔جو شخص کثرت سے دُعاؤں میں لگا رہتا ہے۔وہ آخر اس فیض کو کھینچ لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہوکر اپنے مقاصد کو پالیتا ہے۔ہاں نری دُعا خدا تعالیٰ کا منشاء نہیں ہے بلکہ اول تمام مسائی اور مجاہدات کو کام میں لائے اور اُس کے ساتھ دُعا سے کام لے۔اسباب سے کام لے، اسباب سے کام نہ لینا اور نری دُعا سے کام لینا یہ آداب الدعا سے نا واقعی ہے۔اور خدا تعالی کو آزمانا ہے اور نرے اسباب پر گر رہنا اور دُعا کو لاشے محض سمجھنا یہ دہریت ہے۔یقیناً سمجھو کہ دُعا بڑی دولت ہے جو شخص دُعا کو نہیں چھوڑتا اس کے دین اور دنیا پر آفت نہ آئے گی، وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے اردگر مسلح سپاہی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں۔لیکن جو دُعاؤں سے لا پروا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو خود بے ہتھیار ہے اور اس پر کمزور بھی ہے اور پھر ایسے جنگل میں ہے جو درندوں اور موذی جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی خیر ہرگز نہیں ہے۔ایک لمحہ میں وہ موذی جانوروں کا شکار ہو جائے گا اور اس کی ہڈی بوٹی نظر نہ آئے گی اس لئے یا درکھو کہ انسان کی بڑی سعادت اور اس کی حفاظت کا اصل ذریعہ یہی دُعا ہے۔یہی دُعا اس کے لئے پناہ ہے اگر وہ ہر وقت اس میں لگا ر ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ رستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۴) دوسرا طریق حقیقی پاکیزگی اور خاتمہ بالخیر کے حاصل کرنے کا جو خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے جو دراصل سب سے مقدم ہے وہ دُعا ہے اس لئے جس قدر ہو سکے دُعا کرو یہ طریق اعلیٰ درجہ کا مفید اور مجرب ہے کیونکہ خود