تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 322

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۲ سورة البقرة ہے۔یا درکھو! دُعا ایک موت ہے اور جیسے موت کے وقت اضطراب اور بے قراری ہوتی ہے اسی طرح پر دُعا کے لئے بھی ویسا ہی اضطراب اور جوش ہونا ضروری ہے اس لئے دُعا کے واسطے پورا پورا اضطراب اور گدازش جب تک نہ ہو تو بات نہیں بنتی پس چاہئے کہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر نہایت تضرع اور زاری و ابتہال کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی مشکلات کو پیش کرے اور اس دُعا کو اس حد تک پہنچا وے کہ ایک موت کی سی صورت واقع ہو جاوے اُس وقت دُعا قبولیت کے درجہ تک پہنچتی ہے۔یہ بھی یا درکھو کہ سب سے اوّل اور ضروری دُعا یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف کرنے کی دُعا کرے۔ساری دُعاؤں کا اصل اور جز یہی دُعا ہے کیونکہ جب یہ دُعا قبول ہو جاوے اور انسان ہر قسم کی گندگیوں اور آلودگیوں سے پاک صاف ہو کر خدا تعالیٰ کی نظر میں مطہر ہو جاوے تو پھر دوسری دُعائیں جو اس کی حاجات ضروریہ کے متعلق ہوتی ہیں وہ اُس کو مانگنی بھی نہیں پڑتی ہیں وہ خود بخود قبول ہوتی چلی جاتی ہیں۔بڑی مشقت اور محنت طلب یہی دُعا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں متقی اور راست باز ٹھہرایا جاوے۔یعنی اوّل اوّل جو حجاب انسان کے دل پر ہوتے ہیں اُن کا دور ہونا ضروری ہے جب وہ دُور ہو گئے تو دوسرے حجابوں کے دور کرنے کے واسطے اس قدر محنت اور مشقت کرنی نہیں پڑے گی۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال ہو کر ہزاروں خرابیاں خود بخود دور ہونے لگتی ہیں اور جب اندر پاکیزگی اور طہارت پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے تو پھر اللہ تعالی خود بخو داُس کا متکفل اور متوتی ہوتا ہے اور اس سے پہلے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی حاجت کو مانگے اللہ تعالیٰ خود اُس کو پورا کر دیتا ہے۔یہ ایک بار یک ستر ہے جو اُس وقت کھلتا ہے جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے اس سے پہلے اس کی سمجھ میں آنا بھی مشکل ہوتا ہے۔لیکن یہ ایک عظیم الشان مجاہدہ کا کام ہے کیونکہ دعا بھی ایک مجاہدہ کو چاہتی ہے جو شخص دُعا سے لا پروائی کرتا ہے اور اُس سے دور رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا اور اس سے دور ہو جاتا ہے۔جلدی اور شتاب کاری یہاں کام نہیں دیتی خدا تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے جو چاہے عطا کرے اور جب چاہے عنایت فرمائے۔سائل کا کام نہیں ہے کہ وہ فی الفور عطا نہ کئے جانے پر شکایت کرے اور بدظنی کرے بلکہ استقلال اور صبر سے مانگتا چلا جاوے۔(الحکم جلد ۸ نمبر ۱۳ مورمحه ۱۷۲۲ پریل ۱۹۰۴ صفحه ۶،۵) دُعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجہ کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے جب انتہائی درجہ اضطرار کا پیدا ہو جاتا ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کی قبولیت کے آثار اور سامان بھی