تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 321

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ٣٢١ سورة البقرة سکتی۔اور پھر اس کا علاج یہی ہے کہ دُعا کرتا رہے خواہ کیسی ہی بے دلی اور بے ذوقی ہو لیکن یہ سیر نہ ہو تکلف اور تصنع سے کرتا ہی رہے اصلی اور حقیقی دُعا کے واسطے بھی دُعا ہی کی ضرورت ہے۔بہت سے لوگ دُعا کرتے ہیں اور ان کا دل سیر ہو جاتا ہے وہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ کچھ نہیں بنتا مگر ہماری نصیحت یہ ہے کہ اس خاک پیزی ہی میں برکت ہے کیونکہ آخر گو ہر مقصود اسی سے نکل آتا ہے اور ایک دن آ جاتا ہے کہ جب اس کا وہ دل زبان کے ساتھ متفق ہو جاتا ہے اور پھر خود ہی وہ عاجزی اور رقت جو دُعا کے لوازمات ہیں پیدا ہو جاتے ہیں۔جو رات کو اُٹھتا ہے خواہ کتنی ہی عدم حضوری اور بے صبری ہو لیکن اگر وہ اس حالت میں بھی دُعا کرتا ہے کہ الہی دل تیرے ہی قبضہ و تصرف میں ہے تو اس کو صاف کر دے اور مین قبض کی حالت میں اللہ تعالی سے بسط چاہے تو اس قبض میں سے بسط نکل آئے گی اور رقت پیدا ہو جائے گی یہی وہ وقت ہوتا ہے جو قبولیت کی گھڑی کہلاتا ہے وہ دیکھے گا کہ اس وقت روح آستانہ الوہیت پر پانی کی طرح بہتی ہے اور گویا ایک قطرہ ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف گرتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۳۱ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۳ صفحه ۳) دُعا تو ایک ایسی چیز ہے جو ہر مشکل کو آسان کر دیتی ہے دعا کے ساتھ مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے لوگوں کو دُعا کی قدر و قیمت معلوم نہیں وہ بہت جلد ملول ہو جاتے ہیں اور ہمت ہار کر چھوڑ بیٹھتے ہیں۔حالانکہ دُعا ایک استقلال اور مداومت کو چاہتی ہے۔جب انسان پوری ہمت سے لگا رہتا ہے تو پھر ایک بدخلقی کیا ہزاروں بدخلقیوں کو اللہ تعالیٰ دُور کر دیتا ہے اور اُسے کامل مومن بنا دیتا ہے لیکن اس کے واسطے اخلاص اور مجاہدہ شرط ہے جو دُعاہی سے پیدا ہوتا ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۴ صفحه ۴) انسان کو چاہئے کہ اس زندگی کو اس قدر قبیح خیال کر کے اس سے نکلنے کے لئے کوشش کرے اور دُعا سے کام لے کیونکہ جب وہ حق تدبیر ادا کرتا ہے اور پھر سچی دُعاؤں سے کام لیتا ہے تو آخر اللہ تعالیٰ اُس کو نجات دے دیتا ہے اور وہ گناہ کی زندگی سے نکل آتا ہے۔کیونکہ دُعا بھی کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ وہ بھی ایک موت ہی ہے جب اس موت کو انسان قبول کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کو مجرمانہ زندگی سے جوموت کا موجب ہے بچالیتا ہے اور اُس کو ایک پاک زندگی عطا کرتا ہے۔بہت سے لوگ دُعا کو ایک معمولی چیز سمجھتے ہیں سویا درکھنا چاہئے کہ دُعا یہی نہیں کہ معمولی طور پر نماز پڑھ کر ہاتھ اُٹھا کر بیٹھ گئے اور جو کچھ آیا منہ میں سے کہہ دیا۔اس دُعا سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ یہ دعانری ایک منتر کی طرح ہوتی ہے نہ اس میں دل شریک ہوتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں پر کوئی ایمان ہوتا