تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 318
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۸ سورة البقرة کے واسطے دُعاؤں میں لگے رہو۔دُعاؤں کے ذریعہ سے ایسی تبدیلی ہوگی جو خدا کے فضل سے خاتمہ بالخیر ہو جاوے گا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۳) معرفت فضل کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے اور پھر فضل کے ذریعہ سے ہی باقی رہتی ہے۔فضل معرفت کو نہایت مصفی اور روشن کر دیتا ہے اور حجابوں کو درمیان سے اُٹھا دیتا ہے اور نفس اتارہ کے لئے گردوغبار کو دور کر دیتا ہے اور روح کو قوت اور زندگی بخشتا ہے اور نفس اتارہ کو امارگی کے زندان سے نکالتا ہے اور بدخواہشوں کی پلیدی سے پاک کرتا ہے اور نفسانی جذبات کے تند سیلاب سے باہر لاتا ہے۔تب انسان میں ایک تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ بھی گندی زندگی سے طبعاً بیزار ہو جاتا ہے کہ بعد اس کے پہلی حرکت جو فضل کے ذریعہ سے رُوح میں پیدا ہوتی ہے وہ دُعا ہے۔یہ خیال مت کرو کہ ہم بھی ہر روز دُعا کرتے ہیں اور تمام نماز دُعا ہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں۔کیونکہ وہ دُعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے، وہ فنا کرنے والی چیز ہے، وہ گداز کرنے والی آگ ہے، وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے، وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔وہ ایک تندرسیل ہے پر آخر کوکشتی بن جاتی ہے۔ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے۔لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۲) دُعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔دُعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔دُعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔پھر اس تبدیلی سے خدا بھی اپنے صفات میں تبدیلی کرتا ہے اور اس کے صفات غیر متبدل ہیں مگر تبد یلی یافتہ کے لئے اُس کی ایک الگ تجلی ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔گویاوہ اور خدا ہے حالانکہ اور کوئی خدا نہیں۔مگر نئی تجلی نئے رنگ میں اس کو ظاہر کرتی ہے۔تب اس خاص تجلی کے شان میں اس تبدیل یافتہ کے لئے وہ کام کرتا ہے جو دوسروں کے لئے نہیں کرتا، یہی وہ خوارق ہے۔(لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۳) دُعا میں ایک موت ہے اور اس کا بڑا اثر یہی ہوتا ہے کہ انسان ایک طرح سے مرجاتا ہے۔مثلاً ایک انسان ایک قطرہ پانی کا پی کر اگر دعوی کرے کہ میری پیاس بجھ گئی یا اُسے بڑی پیاس تھی تو وہ جھوٹا ہے ہاں اگر پیالہ بھر کر پیوے تو اس کی بات کی تصدیق ہو گی۔پوری سوزش اور گدازش کے ساتھ جب ایک رنگ میں دعا کی جاتی ہے۔حتی کہ روح گداز ہو کر آستانہ الہی پر گر پڑتی ہے اور اسی کا نام دُعا ہے اور الہی سنت یہی ہے