تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 315
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۵ سورة البقرة مخلص بندہ دعا کرتا ہے (خواہ دل سے یا زبان سے ) سن لیتا ہوں ( پس اس سے قرب ظاہر ہے ) مگر چاہئے کہ وہ ایسی اپنی حالت بنائے رکھیں جس سے میں ان کی دعائن لیا کروں۔یعنی انسان اپنا حجاب آپ ہو جاتا ہے۔جب پاک حالت کو چھوڑ کر دُور جا پڑتا ہے تب خدائے تعالیٰ بھی اُس سے دُور ہو جاتا ہے اور چاہیئے کہ ایمان اپنا مجھ پر ثابت رکھیں ( کیونکہ قوت ایمانی کی برکت سے دُعا جلد قبول ہوتی ہے ) اگر وہ ایسا کریں تو رشد حاصل کر لیں گے یعنی ہمیشہ خدائے عز و جل اُن کے ساتھ ہوگا۔اور کبھی عنایت ورہنمائی الہی اُن سے الگ نہیں ہوگی۔سو استجاب دعاء بھی اولیاء اللہ کے لئے ایک بھاری نشان ہے۔فتدبر ! منہ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۸۱ حاشیہ ) ہر ایک پکارنے والے کی پکار کو سننے والا اور جواب دینے والا یعنی دُعاؤں کا قبول کرنے والا۔لئے دُور۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۶) اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۶) یعنی اگر میرے بندے میری نسبت سوال کریں کہ وہ کہاں ہے؟ تو ان کو کہہ کہ وہ تم سے بہت ہی قریب ہے۔میں دُعا کرنے والے کی دُعا سنتا ہوں۔پس چاہئے کہ وہ دُعاؤں سے میرا وصل ڈھونڈیں اور مجھے پر ایمان لاویں تا کامیاب ہوویں۔اور جب میرے پرستار تجھ سے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں یعنی دوستوں کے لئے نزدیک اور دشمنوں کے ست بچن ، روحانی خزائن ، جلد ۱۰ صفحه ۲۳۲) یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں کہ خدا کے وجود پر دلیل کیا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ میں بہت نزدیک ہوں یعنی کچھ بڑے دلائل کی حاجت نہیں۔میرا وجود نہایت اقرب طریق سے سمجھ آ سکتا ہے اور نہایت آسانی سے میری ہستی پر دلیل پیدا ہوتی ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جب کوئی دُعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اُس کی سنتا ہوں اور اپنے الہام سے اس کی کامیابی کی بشارت دیتا ہوں جس سے نہ صرف میری ہستی پر یقین آتا ہے بلکہ میرا قادر ہونا بھی بپا یہ یقین پہنچتا ہے لیکن چاہیئے کہ لوگ ایسی حالت تقومی اور خدا ترسی کی پیدا کریں کہ میں اُن کی آواز سنوں۔اور نیز چاہیے کہ وہ مجھ پر ایمان لاویں اور قبل اس کے جو ان کو معرفت تامہ ملے اس بات کا اقرار کریں کہ خدا موجود ہے اور تمام طاقتیں اور قدرتیں رکھتا ہے کیونکہ جو شخص ایمان لاتا ہے اُسی کو عرفان دیا جاتا ہے۔(ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۶۱،۲۶۰) یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں کہ وہ کہاں ہے۔پس جواب یہ ہے کہ ایسا نزدیک