تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 312

٣١٢ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام انسان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ حسب استطاعت خدا کے فرائض بجالا وے۔روزہ کے بارے میں خدا فرماتا ہے: وَاَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ یعنی اگر تم روزہ رکھ بھی لیا کرو تو تمہارے واسطے بڑی خیر ہے۔البدر جلد نمبر ۷ مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۵۲) شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَةٍ مِنَ الْهُدَى وَ b الْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُبُهُ ۖ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ W , فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ ُأخَرَ يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَ لِتَكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدِيكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ رمض سورج کی تپش کو کہتے ہیں ، رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے، روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینہ میں آیا اس لئے رمضان کہلایا، میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔کیونکہ عرب کے لئے یہ خصوصیت نہیں ہوسکتی۔روحانی رمض سے مُراد روحانی ذوق و شوق اور حرارت دینی ہوتی ہے، رمض اُس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر وغیرہ گرم ہو جاتے ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ صفحہ ۲) شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ ہی ایک فقرہ ہے جس سے ماہِ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔صوفیا نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں صلوۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم ( روزہ ) تحلی قلب کرتا ہے۔تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہو جاوے اور تحلیلی ، قلب سے یہ مراد ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لیوے۔پس أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ میں یہی اشارہ ہے اس میں شک وشبہ کوئی نہیں ہے روزہ کا اجر عظیم ہے لیکن امراض اور اغراض اس نعمت سے انسان کو محروم رکھتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ جوانی کے ایام میں میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ روزہ رکھنا سنت اہل بیت ہے میرے حق میں پیغمبر خدا نے فرمایا: سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ سَلْمَانُ یعنی الصلح کہ اس شخص کے ہاتھ سے دو صلح ہوں گی ایک اندرونی دوسری بیرونی، اور یہ اپنا کام رفق سے کرے گا نہ کہ شمشیر سے اور میں مشرب حسین پر